آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 477 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 477

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 477 باب و ہم ابوفكمية : الوفاکہ یہ ایک غلام تھے۔وہ بھی رسول کریم ﷺ پر ابتدائی ایام میں ایمان لائے۔انہیں بھی گرم ریت پر لٹایا جاتا۔ایک دفعہ ری باند ھو کر انہیں کھینچا جارہا تھا کہ پاس سے کوئی جانور گزرا۔ان کے آقا نے اس کی طرف اشارہ کر کے انہیں کہا یہ تمہارا خدا ہے۔انہوں نے کہا میرا اور تمہارا خدا ایک ہی ہے۔اس پر اس ظالم نے ان کا گلا گھونٹا اور پھر بھاری پتھر ان کے سیدند پر رکھ دیا۔جس سے ان کی زبان باہر نکل آئی اور لوگوں نے سمجھا کہ مرگئے ہیں۔دیر تک ملنے ملانے سے انہیں ہوش آئی۔بینہ بینہ ایک کثیر تھیں یہ بھی نہایت ابتدائی ایام میں اسلام لائیں۔حضرت عمر اپنے اسلام لانے سے پہلے انہیں اسلام کی وجہ سے تکلیف دیا کرتے تھے مگر یہ اپنے اسلام پر قائم رہیں۔مگریہا۔زنیزه زنیز وہ بھی ایک کنیز تھیں اور ابتدائی ایام میں ہی ایمان لائیں۔حضرت عمر اپنے اسلام لانے سے پہلے انہیں ستایا کرتے۔ابو جہل نے مار مار کر ان کی آنکھیں پھوڑ دیں مگر باوجود اس کے انہوں نے رسول کریم ﷺ کی رسالت کا انکار نہ کیا۔ابو جہل اسے دیکھ کر غصہ سے کہا کرتا تھا کہ کیا ہم اتنے حقیر ہو گئے ہیں کہ زنیرہ نے تو سچا دین مان لیا اور ہم نے نہ مانا۔تہدیہ اور ام اس اسی طرح تہدیہ اور ام عمیس دو کثیر میں تھیں جو مکی زندگی میں اسلام لائیں میں : اور دونوں نے اسلام لانے کی وجہ سے سخت مصائب بر داشت کئے۔عامر عامر بن فہیرہ بھی ایک غلام تھے۔جنہیں حضرت ابو بکڑ نے آزاد کر دیا۔انہیں بھی اسلام لانے کی وجہ سے سخت تکالیف دی گئیں۔حمام حمامہ بلال کی والدہ تھیں۔یہ بھی اسلام لائیں اور اسلام کی خاطر انہوں نے تکالیف اٹھائیں۔ان کے علاوہ اور غلام اور لونڈیاں بھی تھیں جو آپ پر ایمان لائیں اور اس کی وجہ سے انہوں نے سخت تکلیفیں اٹھا ئیں۔الله غرض رسول کریم ﷺ کی نبوت کے ابتدائی سات سالوں میں کل چالیس افراد نے آپ کو مانا جن میں سے کم سے کم ۱۴، ۱۵ غلام تھے اور انہوں نے آزا دلوگوں سے زیادہ تکالیف اٹھا ئیں۔اگر رسول کریم ﷺ غلامی قائم کرنے والے ہوتے تو یہ لوگ آپ کے دشمن ہوتے نہ