آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 476
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 476 باب و هم میں رہ کر آپ کے خلاف کیا کیا شوخیاں نہ کرتے۔وہ ایسے دشمن کے گھر میں ہو کر اور ہر قسم کی مخالف باتیں سن کر بھی آپ پر ایمان لاتے ہیں اور بڑی بڑی تکالیف اٹھاتے ہیں۔ان کا آقا اسی وجہ سے انہیں گرم ریت پر لٹا دیا کرتا۔اور وہ چونکہ عربی زبان زیادہ نہ جانتے تھے اس لئے وہ زیادہ تو کچھ نہ کہہ سکتے مگر احد احد کہتے رہتے تھے۔یعنی اللہ ایک ہے ، اللہ ایک ہے۔اس پر ناراض ہو کر ان کا آقا انہیں اور تکالیف دیتا اور رہی ان کے پاؤں سے باندھ کرلڑکوں کے سپر د کر دیتا تھا۔وہ انہیں گلیوں میں کھیلتے پھرتے تھے حتی کہ بلال کی پیٹھ کا چمڑا اتر جاتا تھا۔مگر رسول کریم کی محبت کا نشہ پھر بھی نہ اتر تا تھا اور جس ایمان کی حالت میں ان پر مار پڑنی شروع ہوتی تھی اس سے بھی زیادہ ایمان پر اس مار کا خاتمہ ہوا کرتا تھا۔اب غور کرو یہ محبت اس کے دل میں کس طرح پڑ سکتی تھی۔اگر وہ محمد میں اللہ کو غلاموں کا حامی اور آزاد کرنے والا نہ سمجھتا۔اس کے سوا وہ کون سی چیز تھی جو اسے آپ کے دشمن کے گھر میں رہ کر بھی آپ کی طرف مائل کر رہی تھی۔سمیہ: چوتھا شخص ایک عورت لونڈی تھی جس کا نام سمیہ تھا۔ابو جہل ان کو سخت دیکھ دیا کرتا تھا تا کہ وہ ایمان چھوڑ دیں لیکن جب ان کے پائے ثبات کو لغزش نہ ہوئی تو ایک دن ناراض ہو کر اس نے شرمگاہ میں نیزہ مار کر ان کو مار دیا۔انہوں نے جان دے دی مگر محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان کو نہ چھوڑا۔اب سوچو کہ مرد تو مرد عورت لونڈیاں جو شدید ترین دشمنوں کے گھر میں تھیں انہوں نے کس قربانی کے ساتھ آپ کا ساتھ دیا ہے۔اگر وہ یہ دیکھیں کہ رسول کریم غلامی کے دشمن نہیں اس کے حامی ہیں تو کیا صنف نازک میں سے ہوتے ہوئے وہ اس طرح آپ کے لئے اپنی جان قربان کر سکتی تھیں؟ عمار پانچویں مثال عمار کی ہے جو سمیہ کے بیٹے تھے۔انہیں جلتی ریت پر لٹایا جاتا تھا۔صہیب ایک غلام صہیب تھے جو روم سے پکڑے آئے۔عبداللہ بن جدعان کے غلام تھے جنہوں نے ان کو آزاد کر دیا تھا۔وہ بھی رسول کریم ﷺ پر ایمان لائے اور آپ کے لئے بہت ہی تکالیف اٹھا ئیں۔الله