آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 475
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 470 باب و هم جانی نقصانوں کے آپ ایک منٹ کے لئے بھی متذبذب نہ ہوئے اور ایمان پر ثابت قدم رہے۔آپ کی پیٹھ کے نشان آخر عمر تک قائم رہے۔چنانچہ حضرت عمر کی حکومت کے ایام میں انہوں نے اپنے گزشتہ مصائب کا ذکر کیا تو انہوں نے ان سے پیٹھ دکھانے کو کہا۔جب انہوں نے پیٹھ پر سے کپڑا اٹھایا تو تمام پیٹھ پر ایسے سفید داغ نظر آئے جیسے کہ برص کے داغ ہوتے ہیں۔اب غور کرو کہ اگر محمد نے غلامی قائم کرنے کے لئے آتے تو چاہئے تھا کہ پنجاب آپ کی گردن کاٹنے کے لئے جاتا ، نہ یہ کہ آپ کی خاطر گرم کوئلوں پر لوٹتا۔زید پھر ایک اور غلام زید بن حارثہ تھے جو ایک عیسائی قبیلہ میں سے تھے۔ان کو کسی جنگ میں قید کر کے غلام بنایا گیا تھا۔وہ سکتے سکتے حضرت خدیجہ کے قبضہ میں آئے اور انہوں نے شادی پر سب جائیدادسمیت انہیں آنحضرت ﷺ کے سپرد کر دیا اور آپ نے انہیں آزاد کر دیا۔جب ان کے رشتہ داروں کو پتہ لگا کہ وہ مکہ میں ہیں تو ان کا باپ اور چا آئے اور رسول کریم سے کہا ان کو آزاد کر دیں۔آپ نے فرمایا میں نے آزاد کیا ہوا ہے جہاں چاہے چلا جائے۔اس پر اس کے باپ نے کہا چلو بیٹا۔مگر انہوں نے کہا آپ کی میرے حال پر بڑی مہربانی ہے۔مگر بات یہ ہے کہ محمد ﷺ سے پیارا مجھے کوئی نہیں ہے۔اس لئے میں انہیں چھوڑ کر نہیں جاسکتا۔اب غور کرو ایک نوجوان پکڑا ہوا آتا ہے۔ماں باپ کی یا د کے نقش اس کے دل پر جے ہوئے ہوتے ہیں۔مگر جب باپ آکر اسے کہتا ہے کہ ہمارے ساتھ چل تو وہ کہتا ہے مجھے محمد نے کی صحبت سے اور کوئی چیز اچھی نہیں لگتی۔اس کے بعد وہ آپ کے دعوئی کے وقت آپ پر ایمان لاتا ہے اور آخر ایک دن اپنے خون سے حق رفاقت ادا کرتا ہے۔اب بتاؤ کہ کیا یہ فدائیت اور محبت ایک غلام کو اس شخص سے ہوسکتی تھی جو غلامی کا حامی تھا۔بلال ایک اور غلام تھے جن کا نام بلال تھا اور جو رسول کریم ﷺ کے جانی دشمن امیہ بن خلف کے غلام تھے۔وہ ابتدائی ایام میں ہی رسول کریم ﷺ پر ایمان لے آئے۔امیہ انہیں جلتی ریت ا الله پر لٹا دیتا تھا اور تو بہ کے لئے کہتا تھا۔مگر وہ ایمان سے باز نہ آتے تھے۔اب خدارا کوئی غور کرے کہ اگر رسول کریم ﷺ غلاموں پر ظلم کرنے والے ہوتے تو بلال امیہ جیسے دشمین رسول کے گھر الله