آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 474
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات حامی کہلا سکتا ہے یا غلاموں کا۔“ غلاموں کی رائے 474 باب دہم پھر ایک مثل مشہور ہے کہ ماں سے زیادہ چاہنے والی کٹنی کہلائے۔اب سیدھی بات ہے کہ غلاموں سے زیادہ کسی کو ان کی آزادی کا خیال نہیں ہو سکتا۔دیکھنا یہ چاہئے کہ غلاموں کی رسول کریم ﷺ کے متعلق کیا رائے تھی۔اگر غلام آپ کو اپنا محسن سمجھتے ہیں تو مانا پڑے گا کہ آپ غلاموں کے محسن تھے نہ کہ غلامی کے حامی۔اس کے متعلق میں ایک واقعہ پیش کرتا ہوں جس سے ظاہر ہے کہ غلام آپ سے دلدادہ تھے۔نبوت کی زندگی کے پہلے سات سال میں مکمل چالیس آدمی آپ پر ایمان لائے تھے۔ان میں سے کم سے کم پندرہ غلام تھے یا غلاموں کی اولاد تھے۔گویا گل مومنوں کی تعداد میں تینتیس فیصد می غلام تھے اور مکہ کی آبادی کا لحا ظ ر کھا جائے تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ ابتدائی مومنوں سے وے فیصدی غلام تھے۔مکہ کی آبادی دس بارہ ہزار کی تھی جس میں چالیس پچاس آدمی ایمان لائے تھے اور زیادہ سے زیادہ پانچ چھ سو غلام وہاں ہوگا۔پس کیا یہ عجیب بات نہیں کہ دس بارہ ہزار میں سے تمیں پینتیس آدمی ایمان لائے اور پانچ چھ سو آدمیوں میں سے پندرہ سولہ آدمی۔کیا غلاموں کا اس کثرت سے آپ پر ایمان لانا اس امر پر دلالت نہیں کرتا کہ غلام آپ کو اپنا رہائی دہندہ سمجھتے تھے۔غلاموں کا تکلیفیں اٹھانا یا درکھنا چاہئے کہ رسول کریم ﷺ پر ایمان لا کر جن لوگوں نے سب سے زیادہ تکلیفیں اٹھا ئیں وہ غلام ہی تھے۔خباب چنانچہ بحجاب بن الارت ایک غلام تھے جو لوہار کا کام کرتے تھے۔وہ نہایت ابتدائی ایام میں آپ پر ایمان لائے۔لوگ انہیں سخت تکالیف دیتے تھے۔حتی کہ انہی کی بھٹی کے کو کلے نکال کر ان پر انہیں لٹا دیتے تھے اور اوپر سے چھاتی پر پتھر رکھ دیتے تھے تا کہ آپ کمر نہ ہلا سکیں۔ان کی مزدوری کا روپیہ جن لوگوں کے ذمہ تھاوہ روپیہ ادا کرنے سے منکر ہو گئے۔مگر با وجودان مالی اور