آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 473 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 473

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 478 باب دہم رکھا جاسکتا ہے۔اور یہ کہ فرشتوں کے وجود کا مسئلہ ایسا باریک مسئلہ ہے کہ انسانی عقل اس کی تہ تک نہیں پہنچ سکتی۔جس کے معنے دوسرے لفظوں میں یہ ہیں کہ ان کے متعلق ہم بحث نہیں کر سکتے۔ان کے متعلق بحث کرنا آسمانی کتب کا کام ہے۔پس با وجود مسٹر امیر علی صاحب کے ایسے صریح بیان کے پروفیسر رام دیو صاحب کا یہ بیان فرمانا کہ مسٹر امیر علی صاحب قرآن میں جو فرشتوں کا ذکر ہے اسے محمد صاحب کا وہم قرار دیتے ہیں ایک نہایت ہی حیرت انگیز بات ہے۔“ ☆ غلامی کی تعلیم پر اعتراض انوارالعلوم جلد ۵ صفحه ۳۸۹۲۳۸۵) ولیم میور نے آنحضور کی غلامی کے بارہ میں تعلیم پر اعتراض کیا ہے۔اس اعتراض کا مدلل اور مسکت جواب حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے ارشاد فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں: باقی رہا غلامی کا اعتراض۔اس کے متعلق مجھے کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ یہ ایک علمی مسئلہ ہے اور بہت سے پہلوؤں پر بحث کا محتاج ہے۔پس میں ایک صاف اور سیدھا طریق اس مسئلہ کے حل کرنے کے لئے اختیار کرتا ہوں۔کہا جاتا ہے کہ آپ نے غلامی کو رائج کر کے دنیا پر بہت بڑا ظلم کیا ہے۔میں کہتا ہوں کہ آؤ آپ کی زندگی پر غور کر کے دیکھ لیں کہ کیا آپ غلاموں کے حامی تھے یا غلامی کے حامی۔اور یہ بھی کہ غلام آپ کے دوست تھے یا آپ کے دشمن۔کیونکہ ہر ایک قوم اپنے فوائد کو دوسروں کی نسبت زیادہ سمجھ سکتی ہے۔پہلی بات کو معلوم کرنے کے لئے میں آپ کی جوانی کا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔جب آپ کی شادی حضرت خدیجہ سے ہوئی ہے اس وقت آپ کی عمر پچیس سال کی تھی اور اس عمر میں انسان کا دماغ حکومت کے خیالات سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔حضرت خدیجہ نے شادی کے بعد اپنا سب مال اور اپنے سب غلام آپ کے سپر د کر دیئے اور آپ نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے سب غلاموں کو آزاد کر دیا۔اب بتاؤ کہ یہ شخص جس نے جوانی کے ایام میں دولت ہاتھ آتے ہی یہ کام کیا ہے غلامی کا