آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 32 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 32

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 32 باب اول جن پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اپنی عمر کے آخری دنوں میں اپنی نبوت اور اپنے موسید من اللہ ہونے کی نسبت کچھ شبہات میں پڑ گئے تھے جیسا کہ یہ کلمہ کہ گویا آخری دم کا کلمہ تھا یعنی ایلی ایلی لما سبقتی جس کے معنی یہ ہیں کہ اے میرے خدااے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔عین دنیا سے رخصت ہونے کے وقت میں کہ جو اہل اللہ کے یقین اور ایمان کے انوار ظاہر ہونے کا وقت ہوتا ہے آنجناب کے منہ سے نکل گیا۔پھر آپ کا یہ بھی طریق تھا کہ دشمنوں کے بد ارادہ کا احساس کر کے اُس جگہ سے بھاگ جایا کرتے تھے حالانکہ خدائے تعالیٰ سے محفوظ رہنے کا وعدہ پاچکے تھے ان دونوں امور سے شک اور تیر ظاہر ہے # پھر آپ کا تمام رات رو رو کر ایسے امر کے لئے جس کا انجام بد آپ کو پہلے سے معلوم تھا بجز اس کے کیا معنی رکھتا ہے کہ ہر ایک بات میں آپ کو شک ہی شک تھا۔یہ باتیں صرف عیسائیوں کے اس اعتراض اُٹھانے کی غرض سے لکھی گئی ہیں ورنہ ان سوالات کا جواب ہم تو احسن طریق سے دے سکتے ہیں اور اپنے پیارے مسیح کے سر سے جو بشری ناتوانیوں اور ضعفوں سے مستثنیٰ نہیں تھے ان تمام الزامات کو صرف ایک نفی الوہیت و اہنیت سے ایک طرفہ العین میں اُٹھا سکتے ہیں مگر ہمارے عیسائی بھائیوں کو بہت وقت پیش آئے گی۔(ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات، روحانی خزائن جلد نمبر ۴ صفحه ۲۲۱ تا ۴۲۷) ☆ اس سوال کا جواب حضرت حکیم مولانا نورالدین خلیفہ مسیح الاول نے بھی ارشاد فر مایا تھا۔آپ اس اعتراض کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:۔نیادی اسلام خیر خواہ کا فرا نام علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنی رسالت اور نبوت پر اپنی صداقت اور کامیابی پر پورا یقین اور پرلے درجہ کا علم و اعتقاد تھا۔کبھی کسی قسم کا تر دو شک حضور علیہ السلام کے قلب مطہر اور منشرح پر نہیں آیا۔آپ کا کیا ذکر آپ کے ساتھ والے اور میرے جیسے اتباع بھی آپ کی صداقت اور نبوت پر اعلیٰ درجہ کا یقین رکھتے ہیں۔