آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 472
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 472 باب و هم کا جو حسن کلام کی اعلیٰ صفتوں میں سے ہیں استعمال کیا گیا ہے یہ معنے کرے کہ اہلِ ہنود کے نزدیک ان کی مذہبی کتب میں بہت سی وہمی باتیں بیان ہوگئی ہیں تو اہل ہنو داس کی عقل پر ہنسیں گے یا نہیں۔اسی طرح اہل دانش پر و فیسر صاحب کے اس بیان پر کہ مسٹر امیر علی صاحب کے نزدیک قرآن کریم میں جو فرشتوں کا ذکر آیا ہے وہ محمد صاحب کا وہم ہے۔زیر لب منقسم ہیں اور پروفیسر صاحب کی اس جلد بازی پر حیران ہیں۔جس سے انہوں نے اس حوالہ کے درج کرنے میں کام لیا ہے۔اگر پروفیسر صاحب اس فقرہ کے ساتھ کے اگلے فقرات پڑھتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ مسٹر امیر علی صاحب نہ صرف یہ کہ فرشتوں کے ذکر کو رسول کریم اللہ کا وہم اور خیال نہیں بتاتے بلکہ ان کو اس امر میں بھی شک ہے کہ فرشتوں کا ذکر مجاز ہی ہے یا واقع میں بھی کوئی صلى الله ایسا وجود ہے۔غرض وہ فرشتوں کو رسول کریم لینے کا وہم نہیں بتاتے بلکہ ان کے متعلق جو اس زمانہ کے خیالات ہیں ان کے غیر یقینی ہونے کا خیال ظاہر کرتے ہیں وہ اس فقرہ کے معابعد جس سے پروفیسر صاحب نے غلط نتیجہ اخذ کیا ہے تحریر کرتے ہیں: ها الله غالبا محمد ( ﷺ ) صحیح اور دوسرے انبیاء علیہ السلام کی طرح ایسی درمیانی ارواح کے جو خدا اور بندہ کے درمیان پیغام رساں ہوں قائل تھے۔اس زمانہ میں فرشتوں کا جو انکار کیا جاتا ہے وہ کوئی دلیل نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے ہمارے آباء کے جو خیالات فرشتوں کے متعلق تھے ان کی ہنسی اڑائی جائے۔ہمارا انکا ر اسی طرح وہم کہلا سکتا ہے جس طرح ان کا یقین۔فرق صرف یہ ہے کہ ایک میں نفی کا پہلو ہے تو دوسرے میں اثبات کا۔جس چیز کو ہم اس زمانہ میں اصول طبیعی خیال کرتے ہیں وہ ان کو فرشتہ اور آسمانی کارپرداز خیال کرتے تھے یا جس طرح فاک کا خیال ہے خدا اور بندے کے درمیان کوئی اور وجود بھی ہیں۔جس طرح انسان اور ادنی حیوانات کے درمیان اور وجود ہیں؟ یہ ایک ایسا باریک سوال ہے کہ انسانی عقل اس کی تہ تک نہیں پہنچ سکتی۔“ ان فقرات سے صاف ثابت ہے کہ مسٹر امیر علی صاحب فرشتوں کے وجود کو محض استعارہ قرار دینے کو بھی جائز نہیں سمجھتے۔اور ان کا خیال ہے کہ فرشتوں کا انکار کرنے والے اگر فرشتوں کے وجود کو ماننے کا نام وہم رکھتے ہیں تو ان کے فرشتوں کو نہ ماننے کا نام بھی وہم