آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 469 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 469

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 469 باب و هم اس آدمی سے ہدایت چاہتا ہے جو خود گمراہ ہے اور اس سے صداقت طلب کرتا ہے جو جھوٹ بولنے میں کوئی عیب نہیں دیکھتا اور اگر تو مجھے نبی نہیں خیال کرتا بلکہ جھوٹا خیال کرتا ہے تو پھر بھی کو نہایت شقی ہے کیونکہ باوجود مجھے جھوٹا سمجھنے کے پھر میرے ساتھ رہتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ میں آپ کو سچا خیال کرتا ہوں۔اللہ اللہ کیسا پاک جواب ہے کیسا مسکت اور مسکت جواب ہے جسے سن کر ایک حیادار سوائے اس کے کہ زندہ ہی مرجائے اور کوئی جواب نہیں دے سکتا۔یہ تھا آپ کا تحمل، یہ تھی آپ کی بردباری جو آپ کو دنیا کے تمام انسانوں سے افضل ثابت کرتی ہے۔بہت ہیں جو اشتعال انگیز الفاظ کوسن کر خاموشی سے اپنے علم کا ثبوت دیتے ہیں۔لیکن میرے آقا کا عمل بھی لغو نہ تھا اگر آپ خاموش رہتے تو اس کے اعتراض کا جواب کیا ہوتا۔آپ نے عمل کا ایک اعلیٰ نمونہ دکھایا اور ایسا نمونہ جو اپنے اندر ایک عظیم الشان سبق بھی رکھتا تھا اور معترضین کے لئے ہدایت تھا۔کاش ! اس حدیث سے وہ لوگ کچھ نصیحت حاصل کریں جو ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کر کے پھر اعتراضات سے نہیں رکتے کیونکہ ان کو یا درکھنا چاہئے کہ ان کا یہ فعل خود ان کی شقاوت پر دال ہے۔“ ( انوارالعلوم جلد صفحہ ۵۹۰ تا ۵۹۳) فرشتے آپ کا وہم اور شاعرانہ نازک خیالی تھی پروفیسر رام دیو نے سید امیر علی صاحب کی کتاب ”سپرٹ آف اسلام" کے حوالہ سے لکھا ہے کہ فرشتے آنحضور ﷺ کا وہم اور شاعرانہ نازک خیالی تھی۔اس اعتراض کا جواب حضرت مصلح موعود ان الفاظ میں دیتے ہیں:۔پروفیسر رام دیو صاحب فرماتے ہیں کہ سید امیر علی صاحب نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ قرآن میں فرشتوں کا جو ذکر ہے وہ صرف محمد صاحب کا وہم اور شاعرانہ نازک خیالی تھی۔ور نہ فرشتے در حقیقت کوئی چیز نہیں۔مجھے افسوس ہے کہ اس حوالہ کے بیان کرنے میں بھی پروفیسر