آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 470 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 470

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 470 باب و هم صاحب نے غلطی کی ہے اور جلد بازی سے کام لیا ہے۔سید امیر علی صاحب نے اپنی کتاب سپرٹ آف اسلام میں ہرگز نہیں لکھا کہ فرشتوں کے متعلق جو کچھ قرآن میں ہے وہ صرف محمد صاحب کا وہم تھا۔اور نہ یہ لکھا ہے کہ فرشتے در حقیقت کوئی چیز نہیں ہیں۔خود پر وفیسر صاحب نے جو فقرہ سید امیر علی صاحب کی طرف منسوب کیا ہے وہی اپنی غلطی کا آپ مظہر ہے۔پروفیسر صاحب سید امیر علی صاحب کی طرف یہ فقرہ منسوب کرتے ہیں کہ فرشتے محمد صاحب کا وہم اور شاعرانہ نازک خیالی کا نتیجہ ہیں۔اب ہر عقل مند انسان سمجھ سکتا ہے کہ وہم اور شاعرانہ نازک خیالی دو مخالف باتیں ہیں۔کیونکہ وہم کسی ایسی چیز کے خیال کو کہتے ہیں جس کا وجود نہ پایا جائے۔لیکن کوئی شخص غلطی سے اس کے وجود کا قائل ہو۔اور شاعرانہ نازک خیالی اسے کہتے ہیں کہ ایک چیز تو موجود ہو لیکن اس کا ذکر استعارہ اور مجاز میں نظم یا کلام کو خوبصورت بنانے کے لئے کر دیا جائے۔اور یہ دونوں باتیں ایسی متضاد ہیں کہ جس چیز کو ہم وہم کہیں اسے شاعرانہ نازک خیالی نہیں کہہ سکتے۔اور جس کو شاعرانہ نازک خیالی کہیں اسے وہم نہیں کہہ سکتے۔وہم یہ ہے کہ ایک چیز موجود نہیں اور ہم اس کو موجود خیال کرتے ہیں اور شاعرانہ نازک خیالی یہ ہے کہ ہمیں علم تو ہے کہ فلاں بات کس طرح ہے لیکن کلام کو موثر بنانے کے لئے ہم ایک خاص رنگ میں اسے بیان کر دیتے ہیں۔اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک شخص چھلاوہ کے وجود کا قائل ہو۔جس کی نسبت بیان کرتے ہیں کہ کبھی آدمی بن جاتا ہے، کبھی گھوڑا ، کبھی بکرا، کبھی نیو لاء بھی کوئی بے جان شے۔غرض منٹ منٹ میں وہ کئی شکلیں بدل لیتا ہے۔اس شخص کے اس خیال کو تو ہم وہم کہیں گے۔کیونکہ جو شے واقعہ میں موجود نہیں ہے اسے بلا کسی ثبوت کے یہ خیال کر لیتا ہے کہ اسی طرح ہے لیکن ایک شاعر جب شمع کی نسبت بیان کرتا ہے کہ وہ ساری رات روتی ہے تو اسے ہرگز وہم نہیں کہیں گے کیونکہ شاعر یہ یقین نہیں رکھتا کہ شمع واقع میں روتی ہے بلکہ اپنے قلب کے نقشہ کو اس رنگ میں بیان کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ بیر اعشق اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ ہر ایک شئے جو گھل رہی ہو مجھے یہی معلوم ہوتا ہے کہ گویا میری طرح محبوب کے عشق میں رورہی ہے اور گھلتی جارہی ہے۔اگر کوئی شخص واقعہ میں یہ سمجھ لے کہ شمع روتی ہے تو پھر یہ شاعران نازک خیالی نہ رہے گی۔بلکہ وہم