آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 467 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 467

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 467 باب دہم بخاری صاحب نے اس واقعہ کو حضرت جائزے سے یوں روایت کیا ہے کہ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ : حَدَّثَنَا قُرَّةٌ : حَدَّثَنَا عَمُرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عليه وسلم يقسم غنيمة بِالْحِعْرَانَةِ ، إِذْ قَالَ لَهُ رَجُلٌ : اِعْدِلُ فَقَالَ لَهُ: لَقَدْ شَقِيْتَ إِنْ لَمْ أَعْدِلُ۔(كتاب الجهاد باب ومن الدليل على ان الخمس لنوائب المسلمين) الله یعنی آنحضرت له اموال غنیمت کو جعرانہ کے مقام پر تقسیم فرما رہے تھے کہ ایک شخص نے آپ کو کہا کہ آپ عدل سے کام لیں۔آپ نے جواب دیا کہ اگر میں نے عدل نہیں کیا تو تو بڑی بے برکتی اور بدبختی میں مبتلا ہو گیا۔اللہ اللہ کیسے خطر ناک حملہ کا جواب وہ پاک رسول کس نرمی سے دیتا ہے، کس علم سے اسے سمجھاتا ہے۔آنحضرت ملے سے جو عشق صحابہ کو تھا وہ ایسا نہ تھا کہ ایسی باتیں برداشت کر سکتے۔بلکہ حضرت عمر اور خالد بن ولید تو ہمیشہ ایسے موقع پر تلوار کھینچ کر کھڑے ہو جاتے تھے۔مگر آنحضرت ﷺ ان کو ہمیشہ روکتے رہتے تھے کہ ان لوگوں سے اعراض کرو۔پس ایسے وقت میں جبکہ مکہ کے حد میث العبد مسلمان جو ابھی ان آداب سے بالکل نا واقف تھے جو ایک رسول کے حضور بجالانے ایک مومن کا فرض ہوتا ہے اور جو ایک ذرہ سے اشارہ سے صراط مستقیم سے ہٹ کر کہیں کے کہیں پہنچ سکتے تھے آپ کے ارد گر دکھڑے تھے اور وہی وقت تھا جب انہوں نے یہ سبق سیکھنا تھا کہ رسول کریم ﷺ کے ساتھ ہمیں کس طرح عمل کرنا چاہئے۔ایک شخص کا آگے بڑھ کر نہایت بے حیائی سے آپ سے کہنا کہ حضور ذرا عدل مدنظر رکھیں اور بے انصافی اور حق تلفی نہ کریں ایک خطر ناک فعل تھا۔جس سے ایک طرف تو ان قوانین کی خلاف ورزی ہوتی تھی جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ساتھ کلام کرنے کے متعلق بیان فرمائے ہیں۔دوسرے ان تمام مواعید پر پانی پھر جاتا تھا جو اس شخص نے آنحضرت نے کے حضور کئے تھے اور جو ہر ایک مسلمان کو مسلمان ہونے کے لئے کرنے پڑتے ہیں۔تیرے سیاسی لحاظ سے آپ کے رعب کو ایک خطرناک نقصان پہنچانے والے تھے۔اور