آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 466 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 466

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 466 باب دہم کرسکتا ہو تو زبان سے روکنے کی کوشش کرے۔اور اگر زبان سے بھی نہ روک سکتا ہو تو اپنے دل میں ہی برا منائے۔مگر روحانی مردوں میں یہ تینوں باتیں نہیں پائی جاتیں۔وہ برائی ظلم اور جھوٹ کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں مگر نہ تو وہ ہاتھ سے اس کا ازالہ کرتے ہیں نہ زبان سے کسی کو منع کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کے برے فعل پر اپنے دل میں ہی برا مناتے ہیں۔بے شک بعض دفعہ وہ دکھاوے کے طور پر زبان سے کہہ بھی دیتے ہیں۔مگر کہتے وقت ان کے چہرے پر غیرت کے آثار نہیں پائے جاتے۔مگر زندہ ان تینوں باتوں میں سے ایک بات ضرور ہوگی وہ بری بات کو دیکھ کر یا تو ہاتھ سے اس کا ازالہ کرے گایا زبان سے دوسرے کو روکے گا اور یا پھر دل میں ہی مرا منائے گا۔( تفسیر کبیر جلد ۷ ص ۴۰۰ ) ☆ اموال نقیمت کی تقسیم میں عدل سے کام نہ لینے کا اعتراض منافقین نے آنحضور پر غنائم میں عدل سے کام نہ لینے کا اعتراض کیا ہے۔اس اعتراض کا پس منظر اور اس کی حقیقت بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں: ۲۰۰ حضرت میلہ ہوازن پر فتح پا کے واپس آرہے تھے اور اس جنگ میں جو اموال مسلمانوں کے ہاتھ آئے ان کی تقسیم کا سوال در پیش تھا۔آپ کا منشا تھا کہ اگر ہوازن نا ئب ہوکر آجا ئیں اور معافی کے خواستگار ہوں تو ان کے اموال اور قیدی انہیں واپس کر دئے جائیں۔لیکن دن پر دن گزرتے چلے گئے اور ہوازن کی طرف سے کوئی وفد طلب گار معافی ہو کر نہ آیا۔بہت دن تک آپ نے تقسیم اموال کے کام کو تعویق میں رکھا۔لیکن آخر اس بات کو مناسب سمجھا که اموال تقسیم کر دئے جائیں۔چنانچہ بھرا نہ پہنچ کر آپ نے ان اموال کو تقسیم کرنا شروع کیا۔منافق تو ہمیشہ اس تاک میں لگے رہتے تھے کہ کوئی موقع ملے تو ہم آپ پر اعتراض کریں۔کوئی نہ کوئی راہ نکال کر ذوالخو بصر واقعیمی نے عین تقسیم کے وقت بڑھ کر کہا کہ آپ اس تقسیم میں عدل کو مد نظر رکھیں۔جس سے اس کی مراد یہ تھی کہ آپ اس وقت عدل سے کام نہیں لے رہے۔امام