آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 465 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 465

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 460 باب دہم قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کا الزام انبیاء پر مخالفین نے قومی وحدت پارہ پارہ کرنے کے الزام لگائے ہیں۔یہ الزام آپ پر بھی لگا۔اس کا جواب حضرت مصلح موعود تفسیر سورۃ النمل میں یوں ارشاد فرماتے ہیں:۔چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ تعالیٰ نے توحید کے قیام کے لئے کھڑا کیا تھا۔اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ جس طرح حضرت صالح علیہ السلام کو ان کی قوم نے تفرقہ انداز قرار دیا تھا۔اسی طرح کفار نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے والا قرار دیا۔بلکہ وہ ایک دفعہ حضرت ابو طالب کے پاس محض اس لئے آئے کہ وہ اپنے بھتیجے کو سمجھائیں اور انہیں تو حید کو اشاعت سے روکنے کی کوشش کریں۔کفار مکہ کی یہ گھبراہٹ بالکل ویسی ہی تھی جیسے حضرت صالح کے زمانے میں ان کے مخالفین نے جب انہیں تو حید کی تعلیم دیتے دیکھا تو انہوں نے بگڑ کر حضرت صالح کو منحوس اور سب قد ما کہنا شروع کر دیا۔مگر نہ حضرت صالح نے خدائے واحد کا پیغام پہنچانا ترک کیا اور نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو حید کی تعلیم ترک کی۔اور آخر اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ ایک دن مردہ عرب زندہ ہو گیا۔آخر ایک زندہ اور مردہ میں کیا فرق ہوتا ہے۔یہی فرق ہوتا ہے کہ مردہ کو کسی چیز کا احساس نہیں ہوتا۔اس کے سامنے اس کے کسی عزیز ترین وجود کو گالی دی جائے یا اسے قتل کر دیا جائے وہ دفاع کے لئے کوئی حرکت نہیں کر سکتا۔نہ اس ظلم کا اسے کچھ احساس ہوتا ہے لیکن زندہ انسان اپنے نفع و نقصان کو بھی سمجھتا ہے اور دوسروں کے حقوق کے لئے بھی جد وجہد کرتا ہے۔یہی کیفیت روحانی مردوں میں بھی پائی جاتی ہے وہ اپنی آنکھوں کے سامنے ہر قسم کے مظالم دیکھتے ہیں لوگ ان کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں ان کی موجودگی میں دھوکہ بازیاں کرتے ہیں۔مگر انہیں پر واہ تک نہیں ہوتی مگر جب اللہ تعالیٰ کا کوئی نبی دنیا میں آتا ہے تو وہ کہتا ہے اگر تم کسی کو جھوٹ بولتے دیکھو تو اسے منع کرو۔اگر کوئی ظلم کر رہا ہو تو اسے ظلم سے روکو۔بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا کہ ایمان کی علامت یہ ہے کہ جب مومن کوئی بری بات دیکھے تو ہاتھ سے اس کا ازالہ کرے۔اور اگر ہاتھ سے ازالہ نہ