آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 464
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 464 باب دہم اس وقت کے لوگ بھی اتنا فائدہ نہیں اٹھاتے اور بعد کے لوگوں کے لئے بھی وہ کلام کافی نہیں ہوتا بلکہ دوسری کتب کے وہ محتاج رہتے ہیں۔مِنْ أَمْرِہ میں مین تبعیضیہ بھی ہو سکتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے سارے حکم ایک ہی وقت میں کسی ایک نبی پر نازل نہیں کئے۔بلکہ ہر زمانہ میں ضرورت کے مطابق اپنے احکام مختلف انبیاء کی معرفت نازل کئے ہیں۔پس یہ اعتراض کہ پہلے نبیوں کے بعد اس کی کیا ضرورت ہے، غلط ہے۔جس طرح پہلے نبی کے بعد دوسرے نبی کی ضرورت تھی اسی طرح سابق نبیوں کے بعد اس نبی کی ضرورت ہے۔ان اندرُوا أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاتَّقُون - ي تمام دینی تعلیمات کا خلاصہ ہے۔نبیوں کی تعلیم جزئیات میں مختلف رہی ہے۔مگر ایک ہی اصل سب کی تعلیم میں کرفرما تھا کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور دین کا خلاصہ یہی تعلیم ہے۔ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابو ہریرہ سے فرمایا کہ: " جاجو ملے اس سے کہہ دے مَنْ قَالَ لَا إله إلا الله دخل الجنَّةَ - جس نے لا اله إلا الله کہا داخل جنت ہو گیا۔(مسلم کتاب الایمان ) انہیں سب سے پہلے حضرت عمرہ ملے اور انہوں نے انہیں روکا اور آنحضرت مسلم کی خدمت میں لائے اور آپ سے پوچھا کہ کیا ابو ہریرہ جو کہتے ہیں وہ درست ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں درست ہے آپ نے فرمایا یا رسول اللہ اگر اس طرح اعلان ہوا تو قباني أخشى أن يتكل النَّاسُ عَلَيْهَا یعنی لوگ یہ کہنے لگ جائیں گے کہ بس لا إله إلا اللہ کہہ لیا اب کسی عمل کی ضرورت نہیں۔اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا بہت اچھا رہنے دو۔اس سے یہ مطلب نہیں کہ آپ نے اس کو ضروری نہ سمجھا بلکہ مطلب یہ ہے کہ جو اعلان کرنا تھا ہو چکا۔جو اس کا مفہوم سمجھتے تھے ان کو معلوم ہو گیا نا اہلوں تک پہنچانے کی ضرورت نہیں۔اس حکم کے اہل جو سمجھتے ہیں کہ لَا اِلهَ اِلَّا اللہ میں سب احکام شامل ہیں وہ خود اس کی مناسب تشریح کے ساتھ سب کو پہنچا دیں گے۔“ ( تفسیر کبیر جلد ۴ صفحه ۲۶ و ۱۲۷)