آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 463
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 463 باب دہم یہی معنے مراد ہیں اور بتایا ہے کہ کلام الہی ہمیشہ اور ہر نبی پر آہستہ آہستہ اترتا ہے۔پس یہ اعتراض جو رسول کریم ﷺ پر بعض لوگوں کی طرف سے خصوصاً مسیحیوں کی طرف سے کیا جاتا ہے کہ اس کا تھوڑا تھوڑا کر کے اترنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ انسانی کلام ہے اور ضرورت کے مطابق تصنیف کر لیا جاتا تھا۔ان کی سنت الہیہ سے ناواقفیت کی علامت ہے کیونکہ کونسا نبی ہے جس نے ایک وقت میں ہی ساری کتاب لا کر دنیا کو دے دی ہے۔موسیٰ" کے صحف ، حضرت عیسی کے واقعات سب اس امر پر شاہد ہیں کہ تعلیم آہستہ آہستہ ایک لمبے عرصہ میں دنیا کو دی گئی۔اگر اس طرح تعلیم کا دنیا کے سامنے پیش کرنا قابل اعتراض ہ یہ اعتراض حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی پر بھی وارہ ہوتا ہے۔لیکن حق یہ ہے کہ یہ اعتراض ہی غلط ہے جو تعلیم دنیا کے رائج الوقت خیال کے خلاف ہو اور اس کو مٹا کر اور امر الہی کو رائج کرنے کے لئے آئے اس کا آہستہ آہستہ اترنا ضروری ہے۔نالوگ اس پر اچھی طرح عمل کر سکیں اور نا وہ ان کے دماغوں میں راسخ ہو جائے۔اسی کی طرف اشارہ ہے سورۃ فرقان کی اس آیت میں کہ: وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُ والوَلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً كذلك لتتبتَ بِهِ فُؤَادَتْ (الفرقان (۳۳) یعنی کافر کہتے ہیں کہ کیوں سب قرآن اس پر ایک ہی دفعہ نہیں اترا۔یعنی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خدا کا کلام نہیں بلکہ محمد رسول اللہ حسب موقع اسے تصنیف کر لیتے ہیں۔فرماتا ہے یہ ٹھیک ہے کہ یہ قرآن ایک ہی دفعہ نہیں اتر امگر اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اس طرح تیرے دل کو ثبات اور ایمان بخشا چاہتے ہیں۔یعنی تو اور تیرے مومن اس کے مطالب کو عملی جامہ پہنا کر اس کے معافی سے خوب آگاہ ہوتے جاؤ اور اس لئے بھی کہ اگر پہلے ایک پیشگوئی بیان کی جائے پھر جب وہ پوری ہو جائے اور اس کا ذکر بعد کی وحی میں کیا جائے تو ایمان بہت زیا وہ مضبوط ہو جاتا ہے اور یہ طریق بیان بعد میں آنے والے لوگوں کے ایمان کی زیادتی کا بھی موجب ہوتا ہے۔لیکن اگر کلام الہی میں پیشگوئیوں کا تو ذکر ہولیکن ان کے پورا ہونے کی طرف کوئی اشارہ نہ ہو تو