آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 31 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 31

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات باب اول اَدْعُوا إلى الله على بصيرة نمبر ۱۳ (يوسف: ۱۰۹) یعنی کہہ کہ یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف بصیرت کاملہ کے ساتھ ہلا تا ہوں اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے وَأَنْزَلَ اللهُ عَلَيْكَ الكتب وَالْحِكْمَةَ وَعَلَمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عظيما نمبر ۵ ( النساء ۱۱۴) یعنی خدا نے تجھ پر کتاب اُتاری اور حکمت یعنی دلائل حقیت کتاب و حقیت رسالہ تجھ پر ظاہر کئے اور تجھے وہ علوم سکھائے جنہیں تو خود بخو د جان نہیں سکتا تھا اور تجھے پر اس کا ایک عظیم فضل ہے پھر سورہ مجھم میں فرماتا ہے۔مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأى (نجم ۱۲) مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى تقدر اى من أيت ربه لكبرى (النجم: ۱۹۱۸) یعنی آنحضرت ﷺ کے دل نے جو اپنی صداقت کے آسمانی نشان دیکھے تو اُس کی کچھ تکذیب نہ کی یعنی شک نہیں کیا اور آنکھ چپ و راست کی طرف نہیں پھیری اور نہ حد سے آگے بڑھی یعنی حق پر ٹھہر گئی اور اس نے اپنے خدا کے وہ نشان دیکھے جونہایت بزرگ تھے۔اب اے ناظرین ! ذرا انصافاً دیکھو اے حق پسند و ذرا منصفانہ نگہ سے غور کرو کہ خدائے تعالیٰ کیسے صاف صاف طور پر بشارت دیتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو بصیرت کا ملہ کے ساتھ اپنی نبوت پر یقین تھا اور عظیم الشان نشان ان کو دکھلائے گئے تھے۔اب خلاصہ جواب یہ ہے کہ تمام قرآن شریف میں ایک نقطہ یا ایک معفہ اس بات پر دلالت کرنے والا نہیں پاؤ گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی نبوت یا قرآن شریف کے منجانب اللہ ہونے کی نسبت کچھ شک تھا بلکہ یقینی اور قطعی بات ہے کہ جس قدر یقین کامل و بصیرت کامل و معرفت اکمل کا آنحضرت ﷺ نے اپنی ذات باہر کات کی نسبت دعوی کیا ہے اور پھر اس کا ثبوت دیا ہے ایسا کامل ثبوت کسی دوسری موجودہ کتاب میں ہرگز نہیں پایا جاتا۔فَهَل مَن يَسْمَعُ فَيُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَكُونُ مِنَ المُسْلِمِينَ المُخْلِصِين۔واضح رہے کہ انجیلوں میں حضرت مسیح کے بعض اقوال ایسے بیان کئے گئے ہیں یہ شبہات چاروں انجیلوں سے پیدا ہوتے ہیں خاص کر انجیل متی تو اول درجہ کی شیاندازی میں ہے۔