آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 462 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 462

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 462 باب دہم لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔(مشکوۃ المصالح) ان تمام آیات واحادیث سے ثابت ہوا کہ آنحضرت صلعم کی بعثت تمام دنیا کے لئے تھی اور مسیحی مصنفین کا اعتراض باطل ہے۔اسی طرح ان آیات واحادیث سے یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ جس قوم کو نبی پہلے مخاطب کرتا ہے اس کی زبان میں اس کو الہام ہوتا ہے۔اور پھر وہ لوگ بات کو سمجھ کر دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عربی ام الالسنہ ہے کیونکہ جو رسول عرب میں آیا۔اسی کے سپر دسب دنیا کی اصلاح کی گئی۔پس عربی میں نازل ہونے والی وحی کو سب دنیا کے لئے ہدایت قرار دینے سے یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ عربی کسی نہ کسی رنگ میں ساری زبانوں کی ماں ہے اور دوسری زبانیں اس کی بیٹیوں کی طرح ہیں۔اس آیت میں آریوں کے اس اعتراض کا بھی رد ہو جاتا ہے جو وہ یوں کرتے ہیں کہ کلام الہی ایسی زبان میں آنا چاہئے جسے کوئی بولتا نہ ہوتا کہ سب میں برابری رہے۔مگر قرآن کریم کہتا ہے کہ ایسی زبان میں وحی نہیں ہونی چاہئے جس کو لوگ بولتے ہوں۔تا کہ نبی ان کو سمجھا سکے اور وہ سمجھ سکیں جس زبان کو دنیا نہ بول سکتی ہے۔نہ سمجھ سکتی ہے اس میں کلام الہی آنے کا فائدہ کیا ہوا۔آریوں کا یہ عقیدہ اس طرح بھی غلط ہے کہ جب وید نازل ہوئے اگر اسی وقت رشیوں نے اسے نہیں سمجھا تو ان کا نزول بے فائدہ ہو جاتا ہے اور اگر ان کو دیدہ سمجھا دیا گیا تھا تو پھر برابری نہ رہی اور اگر اس وقت لوگ موجود تھے اور انہیں بھی سمجھا دیا گیا تھا تو کو اس وقت کے لوگوں کے لئے برابری ہوگئی۔مگر جو لوگ بعد میں پیدا ہوئے ان کے لئے برابر می کہاں رہی۔اب تو پنڈت تک ویدوں کی زبان سے ناواقف ہورہے ہیں۔(تفسیر کبیر جلد ۳ ص ۴۴۲ تا ۴۴۴) حسب ضرورت قرآن تصنیف کرنے کا التزام حضرت مصلح موعودؓ نے اس اعتراض کا جواب سورۃ النحل آیت نمبر ۳ کی تشریح میں یوں دیا ہے: يُنزِلُ الْمَلائِكَة - تنزیل کے ایک معنے آہستہ آہستہ اتارنے کے ہوتے ہیں۔اس جگہ