آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 461
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 461 باب و هم کہ یہود اور مسیحیوں کے لئے آنحضرت مسلم کا ماننا ضروری تھا اور قرآن کریم ان پیشگوئیوں کی طرف اسی لئے اشارہ کرتا ہے کہ اس کے نزدیک ان کتب کے ماننے والوں کے لئے بھی آپ کا ما نناضروری تھا۔سوم۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرت مسلم انہیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہیں۔اگر وہ مخاطب نہ تھے تو پھر ان کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی کیا ضرورت تھی۔چہارم۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جو یہودو نصاریٰ میں سے آپ پر ایمان لائیں گے وہ کامیاب و مظفر ہوں گے۔اگر آپ صرف عرب کی طرف تھے تو پھر تو یہو دونصاری کو ایمان لانے پر سزاملنی چاہئے تھی نہ کہ انعام ملنا چاہئے تھا۔پس ان چاروں دلیلوں سے ثابت ہے کہ اور کسی قوم کی طرف آپ مبعوث تھے یا نہ تھے۔یہودو نصاری کی طرف تو ضرور تھے۔لیکن پانچویں دلیل نے تو بات کو بالکل ہی کھول دیا ہے۔يَايُّهَا پنجم۔دلیل پنجم یہ ہے کہ قرآن کریم نے اوپر کے دلائل کا نتیجہ نکال کر خود ہی فرما دیا ہے۔فحل ياتها الناس إلى رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُم جميعا" کہہ دے کہ اے بنی نوع انسان میں تم سب کی طرف رسول ہو کر آیا ہوں۔اس دھوٹی نے تو بات کو بالکل صاف کر دیا۔اور یہود و نصاری کے علاوہ دوسری اقوام کو بھی آپ کا مخاطب بنا دیا۔ایک اور آیت میں فرماتا ہے۔وما ارسلناك إلا كافة لِلنَّاسِ بَشِيرًا و نذيرا (۲۹) کہ ہم نے تجھے تمام جہان کی طرف بشیر و نذیر کر کے بھیجا ہے پھر حدیث میں بھی آتا ہے بُعِثْتُ إِلَى الاسْوَدِ وَالَّا حُمَر۔میں ہر کالے گورے کی طرف بھیجا گیا ہوں۔عرب کبھی بھی اپنے آپ کو اسود نہیں کہتے۔بلکہ ہمیشہ امر کہتے ہیں اب اسود قوم کوئی اور نکالنی پڑے گی۔عربی زبان میں محاورہ کے مطابق وہ عجم ہی ہیں۔لغت میں بھی اَلَّا سَوَدُ وَالَّا حُمَر کے معنى العَجَمُ والعَرَبُ لکھے ہیں۔(مجمع الجار ) پھر ایک اور حدیث میں آتا ہے۔بعضت الی الناس عامہ میں سب انسانوں کی طرف مبعوث ہوا ہوں۔(مسند احمد بروایت حضرت جاہد ) ایک اور روایت میں ان کی جگہ یہ الفاظ ہیں: اُرْسِلْتُ إِلى الخلق كافة۔میں سب