آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 460
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 460 باب و ہم یعنی میری رحمت ہر چیز پر حاوی ہے اور اب میں خاص طور پر اس کو ان لوگوں کے لئے لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کریں گے اور زکوۃ دیں گے اور جو لوگ پورے طور پر ہماری آیات پر ایمان لائیں گے۔نیز جو کامل طور پر ہمارے اس موعود رسول کی اطاعت کریں گے جس کی بعثت کی بیتا رات کو وہ اپنے ہاں تو رات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔وہ رسول وقت پر مبعوث ہو کر انہیں نیک کاموں کی تلقین کر رہا ہے اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام قرار دیتا ہے اور وہ ان سے سخت حکموں کے بوجھوں کو اور رسومات کے پھندوں کو جو ان کی گردنوں میں پڑے ہوئے تھے دور کرتا ہے۔پس جو لوگ اس پر کامل طور پر ایمان لائے اور پھر انہوں نے اس کی حمایت اور مدد کے لئے ہر ممکن کوشش سے کام لیا۔اور اس نور کی انہوں نے اتباع کی جو اس رسول کے ساتھ اتارا گیا۔صرف ایسے لوگ ہی کامیاب ہوں گے۔اے ہمارے رسول تو یہ اعلان کر کہ اے بنی نوع انسان میں تم سب کی طرف اس خدا کی طرف سے رسول ہو کر آیا ہوں کہ زمین و آسمان کی بادشاہت اسی کی ہے۔اس کے سوا کوئی اور معبود قابل پرستش نہیں۔وہ زندگی بخشا اور موت دیتا ہے۔پس اے لوگوں اللہ پر اور اس کے موعو د بھیجے ہوئے نبی پر ایمان لاؤ۔جو خود اللہ کی ذات پر اور اس کے کلمات پر پورا ایمان رکھتا ہے اور اس کی کامل پیروی کی راہوں پر چلو۔نا کہ تم ہدایت پاؤ۔اس میں پانچ دلیلیں اس امر کی دی گئی ہیں کہ نبی کریم صلعم ساری دنیا کے لئے ہیں۔اول۔اہل کتاب کو حکم دیا گیا ہے کہ اس کو تسلیم کریں فرمایا: الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ اللبِى الأمى یعنی اہل کتاب میں سے ان لوگوں کو خدا تعالیٰ کی رحمت کا انعام دیا جائے گا۔جو آنحضرت صلعم کو مانیں گے اگر آپ صرف عرب کے لئے تھے تو اہل کتاب کو رحمت کا انعام حاصل کرنے کے لئے آپ کی اتباع کا کیوں حکم دیا گیا۔دوم۔اس آیت میں ذکر ہے کہ تورات وانجیل میں آنحضرت صلعم کی پیشگوئی ہے اگر آپ ان کی طرف مبعوث ہی نہ تھے تو ان کے لئے پیشگوئی کی کیا ضرورت تھی کیونکہ جن کو فائدہ ہو سکتا ہے وہ مکہ والے تھے۔اور وہ تورات و انجیل کو نہیں مانتے تھے۔اور پیشگوئی اس لئے کی جاتی ہے کہ لوگوں کو اس کے ذریعہ سے ہدایت ہو۔پس تو رات اور انجیل میں اسی لئے پیشگوئیاں کی گئی تھیں