آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 458
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 458 باب و هم فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِي لِلهِ (آل عمران: ۲۱) وأمرت أن أسلة يُرب الحليين (المن٢٤) یعنی ان کو کہدے کہ میری نماز اور میری پرستش میں جد وجہد اور میری قربانیاں اور میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا سب خدا کے لئے اور اس کی راہ میں ہے۔وہی خدا جو تمام عالموں کا رب ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں اول امسلمین ہوں یعنی دنیا کی ابتداء سے اس کے اخیر تک میرے جیسا اور کوئی کامل انسان نہیں جو ایسا اعلیٰ درجہ کا فنافی اللہ ہو جو خدا تعالیٰ کی ساری امانتیں اس کو واپس دینے والا ہو۔اس آیت میں ان نا دان موحد وں کا رڈ ہے جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسرے انبیا ء پر فضیلت کلی ثابت نہیں اور ضعیف حدیثوں کو پیش کر کے کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ مجھ کو یونس بن مٹی سے بھی زیادہ فضیلت دی جائے۔یہ نادان نہیں سمجھتے کہ اگر وہ حدیث صحیح بھی ہو تب بھی وہ بطو ر انکسار اور تذلیل ہے جو ہمیشہ ہمارے سید صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی ہر ایک بات کا ایک موقع اور محمل ہوتا ہے اگر کوئی صالح اپنے خط میں احقر عبداللہ لکھے تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا که به شخص در حقیقت تمام دنیا یہاں تک کہ بت پرستوں اور تمام فاستوں سے بدتر ہے اور خود اقرار کرتا ہے کہ وہ احقر عباداللہ ہے کس قدرنا دانی اور شرارت نفس ہے۔غور سے دیکھنا چاہئے کہ جس حالت میں اللہ جل شانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اول المسلمین رکھتا ہے اور تمام مطیعوں اور فرمانبرداروں کا سر دار ٹھہراتا ہے اور سب سے پہلے امانت کو واپس دینے والا آنحضرت صلعم کو قرار دیتا ہے تو پھر کیا بعد اس کے کسی قرآن کریم کے مانے والے کو گنجائش ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اعلیٰ میں کسی طرح کا جرح کر سکے۔خدا تعالیٰ نے آیت موصوفہ بالا میں اسلام کے لئے کئی مراتب رکھ کر سب مدارج سے اعلیٰ درجہ وہی ٹھہرایا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت کو عنایت فرمایا۔سبحان الله ما اعظم شانک یا رسول ۱ الله موسیٰ و عینی ہمہ خیل توائد جمله درین راه طفیل تواند L- آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد نمبر ۵ صفحه ۶۲ ۱ تا ۱۶۴)