آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 457 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 457

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 457 باب و هم نے مجھے کیوں ترک کر دیا اور خدا نے کچھ جواب نہ دیا کہ اس نے ترک کر دیا مگر بات تو ظاہر ہے کہ خدائی کا دعوی کیا۔تکبر کیا ترک کیا گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے آخر وقت میں مخیر کیا کہ اگر چاہو تو دنیا میں رہو اور اگر چاہو تو میری طرف آجاؤ۔آپ نے عرض کیا کہ اے میرے رب اب میں یہی چاہتا ہوں کہ تیری طرف آؤں اور آخری کلمہ آپ کا جس پر آپ کی جان مطہر رخصت ہوگئی۔یہی تھا کہ بالرفيق الا علی یعنی اب میں اس جگہ رہنا نہیں چاہتا۔میں اپنے خدا کے پاس جانا چاہتا ہوں۔اب دونوں کلموں کو وزن کرو۔آپ کے خدا صاحب نے نه فقط ساری رات زندہ رہنے کے لئے دعا کی بلکہ صلیب پر بھی چلا چلا کر روئے کہ مجھے موت سے بچالے مگر کون سنتا تھا۔لیکن ہمارے مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے لئے ہر گز دعا نہیں کی۔اللہ تعالیٰ نے آپ مختار کیا کہ اگر زندگی کی خواہش ہے تو یہی ہو گا۔مگر آپ نے فرمایا کہ اب میں اس دنیا میں رہنا نہیں چاہتا کیا یہ خدا ہے جس پر بھروسہ ہے ڈوب جاؤ!!! نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد نمبر ۹ صفویه ۴۱۱۵۴۰ ) تمام انبیاء پر فضیلت کلی نہ ہونے کا اعتقاد نا دان موحدوں کے اس غلط اعتقاد کے رد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئینہ کمالات اسلام میں تحریر فرماتے ہیں کہ : خود خدا قرآن کریم میں فرماتا ہے قُل اِن صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لله رب العلمين لا شريك له وبذلك أمرتَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ - (الانعام : ۱۶۳ ۱۶۴) حي فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبعوا التَّبَلَ فَتَفَرَّقَ بِكُم مَن سيثيله ديكم و مسکن به تعلَّكُمْ تَتَّقُونَ (الانعام: ۱۵۴) قل إن حد الجنونَ امَة فَاتَّبِعون يُجيكُمُ الله وَيُغفر لكم ذنوبكم وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (آل عمران:۳۲)