آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 454 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 454

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 404 باب و هم میں محمد ہوں۔میں نبی اللہ ہوں۔میں ابن عبد المطلب ہوں اور پھر دوسری طرف دیکھتا ہوں۔کہ آپ کا یسوع کانپ کانپ کر اپنے شاگردوں کو یہ خلاف واقعہ تعلیم دیتا ہے کہ کسی سے نہ کہنا کہ میں یسوع مسیح ہوں حالانکہ اس کلمہ سے کوئی اس کو قتل نہیں کرتا تو میں دریائے حیرت میں تحرق ہو جاتا ہوں کہ یا الہی یہ شخص بھی نبی ہی کہلاتا ہے جس کی شجاعت کا خدا کی راہ میں یہ حال ہے۔الغرض فتح مسیح نے اپنی جہالت کا خوب پر وہ کھولا بلکہ اپنے یسوع صاحب پر بھی وار کیا کہ بعض ان احادیث کو پیش کر دیا جن میں تو ریہ کے جواز کا ذکر ہے اگر کسی حدیث میں تو ریہ کو بطور تسامح کذب کے لفظ سے بیان بھی کیا گیا ہو تو یہ سخت جہالت ہے کہ کوئی شخص اس کو حقیقی کذب پر محمول کرے جبکہ قرآن اور احادیث صحیحہ بالاتفاق کذب حقیقی کو سخت حرام اور پلید ٹھہراتے ہیں اور اعلیٰ درجہ کی حدیثیں تو ریہ کے مسئلہ کو کھول کر بیان کر رہی ہیں تو پھر اگر فرض بھی کرلیں کہ کسی حدیث میں بجائے تو ریہ کے کذب کا لفظ آ گیا ہو تو نعوذ باللہ اس سے مراد حقیقی کذب کیونکر ہو سکتا ہے بلکہ اس کے قاتل کے نہایت باریک تقویٰ کا یہ نشان ہوگا کہ جس نے تو ریہ کو کذب کی صورت میں سمجھ کر بطور تسامح کذب کا لفظ استعمال کیا ہو ہمیں قرآن اور احادیث صحیحہ کی پیروی کرنا ضروری ہے اگر کوئی امر اس کے مخالف ہوگا تو ہم اس کے وہ معنے ہرگز قبول نہیں کریں گے جو مخالف ہوں احادیث پر نظر ڈالنے کے وقت یہ بات ضروری ہوتی ہے کہ ایسی حدیثوں پر بھروسہ نہ کریں جو ان احادیث سے مناقض اور مخالف ہوں۔جن کی صحت اعلیٰ درجہ پر پہنچ چکی ہو اور نہ ایسی حدیثوں پر جو قرآن کی نصوص صریحہ بعینہ محکمہ سے صریح مخالف اور مغائر اور مبائن واقع ہوں پھر ایک ایسا مسئلہ جو قرآن اور احادیث صحیحہ نے اس پر اتفاق کر لیا ہے اور کتب دین میں صراحت سے اس کا ذکر ہے اس کے مخالف کسی بے ہودہ قول یا کسی مغشوش اور غیر ثابت حدیث یا مشتبہ اثر سے تمسک کر کے اعتراض کرنا یہ خیانت اور شرارت کا کام ہے۔در حقیقت عیسائیوں کو ایسی شرارتوں نے ہی ہلاک کیا ہے ان لوگوں کو خود بخو وحد بیث دیکھنے کا مادہ نہیں۔نایت کار مشکوۃ کا کوئی ترجمہ دیکھ کر جس بات پر اپنے فہم ناقص سے عیب لگا سکتے ہیں وہی