آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 453
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 453 باب و ہم کرانے کے لئے یا اپنی بیوی کو کسی فتنہ اور خانگی نا راضگی اور جھگڑے سے بچانے کے لئے یا جنگ میں اپنے مصالح دشمن سے مخفی رکھنے کی غرض سے اور دشمن کو اور طرف جھکا دینے کی نیت سے تو ریہ کا جواز پایا جاتا ہے مگر با وصف اس کے بہت سی حدیثیں دوسری بھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ تو یہ اعلیٰ درجہ کے تقویٰ کے بر خلاف ہے اور بہر حال کھلی کھلی سچائی بہتر ہے اگر چہ اس کی وجہ سے قتل کیا جائے اور جلایا جائے مگر افسوس کہ یہ تو ریہ آپ کے یسوع صاحب کے کلام میں بہت ہی پایا جاتا ہے تمام انجیلیں اس سے بھری پڑی ہیں اس لئے ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ اگر تو ریہ کذب ہے تو میسوع سے زیادہ دنیا میں کوئی بھی کذاب نہیں گذرا۔یسوع صاحب کا یہ قول کہ میں خدا کی ہیکل کو ڈھا سکتا ہوں اور پھر میں تین دن میں اسے بنا سکتا ہوں یہی وہ قول ہے جس کو تو ریہ کہتے ہیں۔اور ایسا ہی وہ قول کہ ایک گھر کا مالک تھا جس نے انگورستان لگایا یہ سب تو ریہ کی قسمیں ہیں اور یسوع صاحب کے کلام میں اس کے بہت سے نمونے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ چباچبا کر باتیں کرتا تھا اور اس کی باتوں میں دورنگی پائی جاتی تھی۔اور ہمارے سید و مولی جناب مقدس نبوی کی تعلیم کا ایک اعلیٰ نمونہ اس جگہ ثابت ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جس تو ریہ کو آپ کا یسوع شیر مادر کی طرح تمام عمر استعمال کرتا رہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حتی الوسع اس سے مجتنب رہنے کا حکم کیا ہے تا مفہوم کلام کا اپنی ظاہری صورت میں بھی کذب سے مشابہ نہ ہو مگر کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ آپ کے یسوع صاحب اس قد رالتزام سچائی کا نہ کر سکے جو شخص خدائی کا دعوی کرے وہ تو شیر ببر کی طرح دنیا میں آنا چاہئے تھا نہ کہ ساری عمر تو ریہ اختیار کر کے اور تمام باتیں کذب کے ہمرنگ کہہ کر یہ ثابت کر دیوے کہ وہ ان افراد کامله میں سے نہیں ہے جو مرنے سے لا پرواہ ہو کر دشمنوں کے مقابل پر اپنے تئیں ظاہر کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ پر پورا بھروسہ رکھتے ہیں۔اور کسی مقام میں بزدلی نہیں دکھلاتے مجھے تو ان باتوں کو یاد کر کے رونا آتا ہے کہ اگر کوئی ایسے ضعیف القلب یسوع کی اس ضعف حالت اور توریہ پر جو ایک قسم کا کذب ہے اعتراض کرے تو ہم کیا جواب دیں۔جب میں دیکھتا ہوں کہ جناب سید المرسلین جنگ (حسین) میں اکیلے ہونے کی حالت میں یہ ہنہ تلواروں کے سامنے کہہ رہے تھے