آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 30
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 30 باب اول کی شیر خوارگی کے وقت میں ہی فوت ہو چکے تھے سو اس جگہ سے اور نیز ایسے اور مقامات سے بوضاحت ثابت ہوتا ہے کہ جماعت کو واحد کے طور پر مخاطب کر کے پکارنا یہ قرآن شریف کا ایک عام محاورہ ہے کہ جو ابتدا سے آخر تک جابجاتا بت ہوتا چلا جاتا ہے۔یہی محاورہ توریت کے احکام میں بھی پایا جاتا ہے کہ واحد مخاطب کے لفظ سے حکم صادر کیا جاتا ہے اور مراد بنی اسرائیل کی جماعت ہوتی ہے جیسا کہ خروج باب ۳۴٬۳۳ میں بظاہر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مخاطب کر کے فرمایا ہے۔(۱۱) آج کے دن میں جو حکم تجھے کرتا ہوں تو اُسے یا درکھیو۔(۱۲) ہوشیار رہ تا نہ ہووے کہ اُس زمین کے باشندوں کے ساتھ جس میں تو جاتا ہے کچھ عہد باند ھے۔(۱۷) تو اپنے لئے ڈھالے ہوئے معبودوں کومت بنا ئیو۔اب ان آیات کا سیاق سباق دیکھنے سے صاف ظاہر ہے کہ اگر چہ ان آیات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام مخاطب کئے گئے تھے مگر دراصل حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان احکام کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نہ کنعان میں گئے اور نہ بت پرستی جیسا برا کام حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے مرد خدا بت شکن سے ہو سکتا تھا جس سے ان کو منع کیا جاتا کیونکہ موسیٰ علیہ السلام وہ مقرب اللہ ہے جس کی شان میں اس باب میں خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو میری نظر میں منظور ہے اور میں تجھ کو بنام پہچانتا ہوں دیکھو خروج باب ۳۳ آیت (۱۷) سویا درکھنا چاہئے کہ یہی طرز قرآن شریف کی ہے توریت اور قرآن شریف میں اکثر احکام اسی شکل سے واقعہ ہیں کہ کو یا مخاطب اُن کے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور جناب رسول اللہ ے ہیں مگر دراصل وہ خطاب قوم اور اُمت کے لوگوں کی طرف ہوتا ہے لیکن جس کو ان کتابوں کی طرز تحریر معلوم نہیں وہ اپنی بے خبری سے یہی خیال کر لیتا ہے کہ گویا وہ خطاب وعتاب نبی منزل علیہ کو ہو رہا ہے مگر غور اور قرائن پر نظر ڈالنے سے اس پر کھل جاتا ہے کہ یہ سراسر غلطی ہے۔پھر یہ اعتراض اُن آیات پر نظر ڈالنے سے بھی بکلی مستاصل ہوتا ہے جن میں اللہ جل شاہینہ۔ہے۔نے آنحضرت ﷺ کے یقین کامل کی تعریف کی ہے جیسا کہ وہ ایک جگہ فرماتا قُل إلى عَلى بَيْنَةٍ مِنْ رَّبِّي (الانعام: ۵۸) اس نمبر ے یعنی کہہ کہ مجھے اپنی رسالت پر کھلی کھلی دلیل اپنے رب کی طرف سے ملی ہے اور پھر دوسری جگہ فرماتا ہے قُلْ هَذِهِ سَبِيلي