آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 452
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 402 باب و ہم وقت آنحضرت ﷺ کے صحابہ نے دکھلایا تھا۔امید کہ آپ اس سے منکر نہیں ہوں گے اور اگر خیانت کے طور پر منکر بھی ہو گئے تو وہ مام مقام ہم دکھلا دیں گے بالفعل صرف نمونہ کے طور پر ثبوت میں لکھا گیا۔اور پھر آپ لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے تین جگہ جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے مگر یہ آپ کو اپنی جہالت کی وجہ سے غلطی لگی ہے اور اصل بات یہی ہے کہ کسی حدیث میں جھوٹ بولنے کی ہرگز اجازت نہیں بلکہ حدیث میں تو یہ لفظ ہیں کہ ان فصلت واحرقت یعنی چی کومت چھوڑا اگر چہ تو قتل کیا جائے اور جلایا جائے۔پھر جس حالت میں قرآن کہتا ہے کہ تم انصاف اور پیچ مت چھوڑو اگر چہ تمہاری جانیں بھی اس سے ضائع ہوں اور حدیث کہتی ہے کہ اگر چہ تم جلائے جاؤ اور قتل کئے جاؤ مگر سچ ہی بولو۔تو پھر اگر فرض کے طور پر کوئی حدیث قرآن اور احادیث صحیحہ کی مخالف ہوتو وہ قابل سماعت نہیں ہوگی کیونکہ ہم لوگ اُسی حدیث کو قبول کرتے ہیں جو احادیث صحیحہ اور قرآن کریم کے مخالف نہ ہو۔ہاں بعض احادیث میں تو ریہ کے جواز کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔اور اُسی کو نفرت دلانے کی غرض سے کذب کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور ایک جاہل اور احمق جب ایسا لفظ کسی حدیث میں بطور تسامح کے لکھا ہوا یا وے تو شاید اس کو حقیقی کذب ہی سمجھ لے کیونکہ وہ اس قطعی فیصلہ سے بے خبر ہے کہ حقیقی کذب اسلام میں پلید اور حرام اور شرک کے برابر ہے مگر تو ریہ جو در حقیقت کذب نہیں کو کذب کے رنگ میں ہے اضطرار کے وقت عوام کے واسطے اس کا جواز حدیث سے پایا جاتا ہے مگر پھر بھی لکھا ہے کہ افضل وہی لوگ ہیں جو تو ریہ سے بھی پر ہیز کریں اور تو ریہ اسلامی اصطلاح میں اس کو کہتے ہیں کہ فتنہ کے خوف سے ایک بات کو چھپانے کے لئے یا کسی اور مصلحت پر ایک راز کی بات مخفی رکھنے کی غرض سے ایسی مثالوں اور پیرایوں میں اس کو بیان کیا جائے کہ عقلمند تو اس بات کو سمجھ جائے اور نا دان کی سمجھ میں نہ آئے اور اس کا خیال دوسری طرف چلا جائے جو متکلم کا مقصود نہیں اور غور کرنے کے بعد معلوم ہو کہ جو کچھ متکلم نے کہا ہے وہ جھوٹ نہیں بلکہ حق محض ہے اور کچھ بھی کذب کی اس میں آمیزش نہ ہو اور نہ دل نے ایک ذرہ بھی کذب کی طرف میل کیا ہو جیسا کہ بعض احادیث میں دو مسلمانوں میں صلح