آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 451
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 451 باب و هم برس کے قریب عرصہ ہو گیا کہ میں نے اس بارہ میں ایک اشتہار دیا تھا اور قرآنی آیات لکھ کر اور عیسائیوں وغیرہ کو ایک رقم کثیر بطور انعام دینا کر کے اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ جیسے ان آیات میں راست کوئی کی تاکید ہے اگر کوئی عیسائی اس زور و شور کی تاکید انجیل میں سے نکال کر دکھلا دے تو اس قد را نعام اس کو دیا جائے گا مگر پادری صاحبان اب تک ایسے چپ رہے کہ گویا ان میں جان نہیں اب مدت کے بعد فتح مسیح صاحب کفن میں سے بولے شاید بوجہ امتداد زمانہ ہمارا وہ اشتہار ان کو یاد نہیں رہا۔پادری صاحب آپ خس و خاشاک کو سونا بنانا چاہتے ہیں اور سونے کی کان سے منہ مروڑ کر ادھر اُدھر بھاگتے ہیں اگر یہ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے۔قرآن شریف نے دروغ گوئی کو بت پرستی کے برابر ٹھہرایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَاجْتَنِبُوا الرِ مِنَ الْأَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوا قَوْلَ الزَّورِ (٣٤) یعنی بتوں کی پلیدی اور جھوٹ کی پلیدی سے پر ہیز کرو۔اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے۔لَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَومِينَ بِالْقِطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ (المَاءِ ۱۳۶) یعنی اے ایمان والو انصاف اور راستی پر قائم ہو جاؤ اور بچی گواہیوں کو للہ ادا کر وا گر چہ تمہاری جانوں پر ان کا ضرر پہنچے یا تمہارے ماں باپ اور تمہارے اقارب ان گواہیوں سے۔نقصان اٹھاویں۔اب اسے نا خداترس ذرا انجیل کو کھول اور ہمیں جتلا کہ راست کوئی کے لئے ایسی تاکید انجیل میں کہاں ہے اور اگر ایسی تاکید ہوتی تو پطرس اول درجہ کا حواری کیوں جھوٹ بولتا اور کیوں جھوٹی قسم کھا کر اور حضرت مسیح پر لعنت بھیج کر صاف منکر ہو جاتا کہ میں اس کو نہیں جانتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم محض راست گوئی کی وجہ سے شہید ہوتے رہے اور الہی گواہی کو انہوں نے ہرگز مخفی نہ رکھا گو ان کے خون سے زمین سرخ ہوگئی مگر انجیل سے ثابت ہے کہ خود آپ کے یسوع صاحب اس شہادت ( نوٹ : دیکھو تی ۶ باب آیت (۲۰) کو مخفی رکھتے رہے ہیں جس کا ظاہر کرنا ان پر واجب تھا اور وہ ایمان بھی دکھلا نہ سکے جو مکہ میں مصائب کے