آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 450 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 450

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 450 باب دہم مال مسروقہ کو آپ کے مسیح کے رو بر و بزرگ حواریوں کا کھانا یعنی بیگانے کھیتوں کی بالیاں توڑنا کیا یہ درست تھا۔اگر کسی جنگ میں کفار کے بلوے اور خطر ناک حالت کے وقت نماز عصر تنگ وقت پر پڑھی گئی تو اس میں صرف یہ بات تھی کہ دو عبادتوں کے جمع ہونے کے وقت اس عبادت کو مقدم سمجھا گیا جس میں کفار کے خطرناک حملہ کی روک اور اپنے حقوق نفس اور قوم اور ملک کی جائز اور بجا محافظت تھی اور یہ تمام کا روائی اس شخص کی تھی جو شریعت لایا اور یہ بالکل قرآن کریم کے منشاء کے مطابق تھی خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلا و تولی - (الحجم :۵۰۴) یعنی نبی کی۔ہر ایک بات خدا تعالیٰ کے حکم سے ہوتی ہے نبی کا زمانہ نزول شریعت کا زمانہ ہوتا ہے اور شریعت وہی ٹھہر جاتی ہے جو نبی عمل کرتا ہے ورنہ جو جو کارروائیاں مسیح نے توریت کے بر خلاف کی ہیں یہاں تک کہ سبت کی بھی پرواہ نہ رکھی اور کھانے پر ہاتھ نہ دھوئے وہ سب صحیح کو مجرم ٹھہراتے ہیں ذرا توریت سے ان سب کا ثبوت تو دو سیح پطرس کو شیطان کہہ چکا تھا پھر اپنی بات کیوں بھول گیا۔اور شیطان کو حواریوں میں کیوں داخل رکھا۔نور القرآن نمبر ۲، روحانی خزائن جلد نمبر ۹ صفحه ۳۸۹ ۲ ۳۹۱) ☆ اعتراض کے آپ نے تین جگہ جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے پادری فتح مسیح نے آنحضور کے بارہ میں یہ اعتراض اٹھایا کہ آپ نے تین جگہ جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے اس کے جواب میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فر ماتے ہیں: ایک یہ اعتراض ہے کہ آنحضرت ﷺ نے تین جگہ جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے اور اپنے دین کو چھپالینے کے واسطے قرآن میں صاف حکم دے دیا ہے مگر انجیل نے ایمان کو پوشیدہ رکھنے کی اجازت نہیں دی اما الجواب۔پس واضح ہو کہ جس قدر راستی کے التزام کے لئے قرآن شریف میں تاکید ہے میں ہرگز باور نہیں کر سکتا کہ انجیل میں اس کا عشر عشیر بھی تاکید ہو میں