آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 447
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 447 باب و هم پانچواں يَسْتَلُونَكَ كَانَك حَفِى عَنْهَا (الاعراف: ۱۸۸) جس کا جواب دیا تلفنها عند اللہ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا تو ایسی باتوں کے پیچھے پڑا ہوا ہے اس کا علم اللہ کے پاس ہے۔لاکن اس سوال کا جواب نہ دینے سے نبوت میں کوئی نقص نہیں آتا کیونکہ حضرت مسیح فرماتے ہیں اس دن اور اس گھڑی کو میرے باپ کے سوا آسمان کے فرشتہ تک کوئی نہیں جانتا۔متی ۲۴ باب ۳۶ اور جگہ فرماتے ہیں:۔اس دن اور اس گھڑی کی بابت سوا باپ کے نہ تو فرشتے جو آسمان پر ہیں اور نہ بیٹا کوئی نہیں جانتا ہے۔مرقس ۳ باب ۳۲۔سائل اور اس کے ہم خیال غور کریں اس گھڑی کی بابت حضرت مسیح کیا قومی۔ایسی گھڑی کا وقت نہ بتانا اگر نبوت اور رسالت میں خلل انداز ہے تو حضرت مسیح کی نبوت اور رسالت بلکہ عیسائیوں کی مانی ہوئی مسیح کی الوہیت میں خلل پڑے گا۔سائل کے سوال کا دوسرا حصہ اور اصحاب کہف کی بابت ان کی تعداد میں غلط بیانی نہ کرتے۔جواب نہ قرآن کریم نے اصحاب کہف کی تعداد بیان فرمائی اور نہ رسول کریم نے معلوم نہیں ہو سکتا کہ سائل نے غلط بیانی کا اتہام کیونکر لگایا۔جب حضرت رسالت مآب نے تعداد کو بتایا ہی نہیں اور اس کا بیان ہی نہیں کیا تو غلط بیانی کہاں سے آ گئی۔مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے سائل کسی کے دھو کہ میں آکر یہ سوال کر بیٹھا ہے کیونکہ قرآن مجید میں جہاں اصحاب کہف کا قصہ لکھا ہے وہاں تعداد کے متعلق یہ آیت ہے :۔سَيَقُولُونَ ثَلَثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ وَيَقُولُونَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلَيْهُم رجما بِالْغَيْبِ وَيَقُولُونَ سَبْعَةٌ وَثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ قُلْ ذِي أَعْلَمُ بعدتهم ما يَعْلَمُهُمْ إِلَّا قَيل (الكهف : ٢٣) بِعِذْتِهِمْ ترجمہ۔لوگ کہیں گے تین ہیں چوتھا اُن کا کتا اور کہتے ہیں پانچ ہیں چھٹا اُن کا کتا ہے۔بے نشانہ تیر چلاتے ہیں اور کہتے ہیں سات ہیں اور آٹھواں کتا ہے۔تو کہہ دے (اے محمد) میرا رب ہی اُن کی تعداد جانتا ہے اور اُن کو تھوڑے ہی جانتے ہیں۔