آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 446
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 446 باب و ہم تیرھواں سوال - يسلك أهل الكتب (النساء:۱۵۴) مانگتے ہیں تجھ سے یہودی اور عیسائی اہل کتاب أَنْ تُنَزِلَ عَلَيْهِمْ كِتَبَّا مِنَ السَّمَاء کہ اُن پر اُتار دے تو ایک کتاب آسمان سے۔یہ سوال اہل کتاب نے اس لئے کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوی کیا ہے کہ میں موسیٰ کی مانند نبی ہوں اور وہی ہوں جس کی بابت تو ریت استثنا کے ۱۸ باب ۱۸ میں پیشگوئی موجود ہے اور اس نبی کی پیش گوئی تو ریت میں اس طرح لکھی تھی:۔تجھے سا ایک بنی بر پا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔استثنا ۸ ا باب ۱۸۔پس لامحالہ اس بنی کے واسطے کوئی ایسی کتاب آسماں سے نہ اترے گی جو لکھی لکھائی آجاوے کیونکہ توریت میں تو لکھا ہے اپنا کلام اس کے منہ میں دوں گا پس ایسے سوال کے جواب میں فرمایا فَقَدْ سَالُوا موسى أكبر من ذلك فقالو: آرنا اللهَ جَهَرَةٌ ارِنَا باقی پانچ سوال یہ ہیں جن کے جواب میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فرمایا ہے۔میرا رب جانتا ہے:۔اول يتلونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَهَا (الاعراف: ۱۸۸) پوچھتے ہیں قیامت کی گھڑی کب ہوگی۔جواب دیا۔قل انما عِلْمُهَا عِندَ رتی تو کہہ اس کا علم میرے رب ہی کے پاس ہے۔دوسرا يَسْتَلُونَ آيَات يَوْمَ الدِّينِ (الہ ریاست : ۱۳) پوچھتے ہیں جزا کا دن کب ہو گا۔جس کا جواب کچھ نہیں دیا۔سپارہ ۲۶ سورۃ ذاریات۔غالباً اس لئے کہ وہ ہمیشہ ہی یا کہ اس لئے کہ ان کی مراد قیامت سے ہے۔تیرا تشلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ آيَات مُرسها (النازعات (۴۳) پوچھتے ہیں وہ گھڑی کب ہو گی۔جس کا جواب ديا فيه أنت من كونه إلى ربك منتهها (النازعات: ۴۵،۴۴) تجھے ایسے قصوں سے کیا اس کا علم رب تک ہے۔چوتها يتلك القاش عنِ السَّاعَةِ (الاحزاب (۶۴) پو چھتے ہیں اس ساعت سے۔جس کا جواب دیا إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَہ اللہ اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔