آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 448
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 448 باب دہم اس آیت شریف سے صاف صاف واضح ہے کہ لوگ ایسا ایسا کہیں گے۔اور لوگ فلاں فلاں تعدا د اصحاب کہف کی بیان کریں گے۔لاکن ان لوگوں کا کہنا ” بن نشا نہ تیر چلانا ہے " اعتبار کے قابل نہیں۔غرض حضرت نبی عرب نے کوئی تعدا د اصحاب کہف کی نہیں بتائی۔اور سائل کے سوال کا تیسرا حصہ یہ ہے اور یہ نہ کہتے کہ سورج چشمہ دلدل میں چھپتا ہے یا غرق ہوتا ہے حالانکہ سورج زمین سے نو کروڑ سے بڑا ہے وہ کس طرح دلدل میں چھپ سکتا ہے۔الجواب سائل صاحب ! تمام قرآن کریم میں کہیں نہیں لکھا کہ سورج چشمہ دلدل میں چھپتا یا غرق ہوتا ہے یا در یوں کو مدت سے یہ دھوکا لگا ہے کہ قرآن میں ایسا لکھا ہے حالانکہ قرآن میں نہیں لکھا۔بات یہ ہے کہ اس ذوالقرنین کا قصہ جس کا ذکر دانیال نبی کی کتاب ۸ باب ۴ میں ہے قرآن کریم نے ایک جگہ بیان فرمایا ہے اور اس میں کہا ہے جب وہ مادہ اور فارس کا بادشاہ اپنے فتوحات کرتا ہوا ابلا وشام کے مغرب کو پہنچا تو اس خاص زمین کے مغرب میں ایک جگہ سورج دلدل میں ڈویتا " ذوالقرنین کو معلوم ہوا۔غالباً جب ذوالقرنین بلیک سی و بحیرہ اسود یا ڈینیوب کے کنارے پہنچا تو اس وقت ذوالقرنین کو اس نظارہ کا موقع ملا۔ہم نے مانا کہ سورج زمین سے بہت بڑا ہے لاکن چونکہ ہم سے بہت ہی دور ہے اس واسطے ہم کو چھوٹا سا دکھائی دیتا ہے اور زمین چونکہ کروی شکل ہے اس واسطے غروب کے وقت ہم کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے فلاں حصہ یا پہاڑ کے فلانے چوٹی کے پیچھے یا ناظر کے افق کے فلاں درخت کے پیچھے یا اگر ہمارے مغرب میں پانی اور دلدل ہو جیسے ذوالقرین کو موقع لگا تو ہم کو مغرب کے وقت سورج اس پانی اور دلدل میں غروب ہوتا ہو امعلوم دے گا۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات از حضرت حکیم نورالدین)