آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 445
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 440 باب دہم سلیم الفطرتوں میں ستھرے اور پسندیدہ ہیں وہ تو حلال کر دی گئیں۔نواں سوال - يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْأَنْقَالِ (الانفال (۲) تجھے سے پوچھتے ہیں غنیمت کی تقسیم کا مسئلہ۔تو جواب دے الانقال الله والرسول قیمت کی تقسیم اللہ پھر رسول کے اختیار میں ہے۔دسواں سوال - يَسْتَلُونَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ (الكهف: ۸۴) ذوالقرنین کا قصہ تجھ سے پوچھتے ہیں۔تو جواب میں قصہ سنا دے نا دے انامَكْتَالَهُ فِي الْأَرْضِينَ (الكهف: ۸۵) سے ذوالقرنین کا قصہ شروع کر دیا اور بقدر ضرورت اسے تمام کیا۔یہ ذوالقرنین وہ ہے جس کا ذکر دانیال ۸ باب ۸ میں ہے۔گیارھواں سوال - يَنتَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ (١٠٢:١) مجھ سے پوچھتے ہیں ایسے مضبوط پہاڑ کیا ہمیشہ رہیں گے۔تو جواب دے يَشقهار تي نسفا اڑا دے گا اور پہاڑوں کو پاش ن پاش کر دے گا میرا رب۔بارھواں سوال - يَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ (بنی اسرائیل: ۸۶) تجھ سے سوال کرتے ہیں قرآن کس کا بنایا ہوا ہے۔تو جواب دے مِن امر ربی یہ قرآن میرے رب کا حکم اور اسی کا کلام ہے۔یا درکھو میں نے روح کا ترجمہ قرآن کیا ہے۔اس سے کئی باعث ہیں۔اول قرآن میں خود اس وجی اور کلام الہی کو روح کہا گیا۔وَالْقَرانُ يُقيرُ بَعْضُه بَعْضًا ویکھو وكذلك أو حين إليك روحا من امرنا (الشوری:۵۳) اور اس طرح وحی کی ہم نے تیری طرف روح اپنے حکم سے۔روم يَلُونَكَ عَنِ الزَّفرح (بنی اسرائیل: ۸۶) کے ماقبل اور مابعد صرف قرآن کریم کا تذکرہ ہے ہاں ممکن ہے کہ ہم اس آیت میں روح کے معنے اس فرشتہ کے لیں جو وحی لاتا تھا اور جس کا نام اسلامیوں میں جبرئیل ہے۔یا یوں کہیں کہ روح کے محلوق اور غیر مخلوق ہونے کا سوال ہو ا جواب دیا گیا روح حادث اور رب کے حکم سے ہوا ہے۔