آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 29
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 29 باب اول شک فی الرسالت کو منسوب کرنا بے خبری وبے علمی یا محض تعصب نہیں تو کیا ہے۔پھر اگر کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ اگر شک کرنے سے بعض ایسے تو مسلم یا متر دو منع کئے گئے تھے جو ضعیف الایمان تھے تو اُن کو یوں کہنا چاہیے تھا کہ تم شک مت کرو نہ یہ کہ تو شک مت کر کیونکہ ضعیف الایمان آدمی صرف ایک ہی نہیں ہوتا بلکہ کئی ہوتے ہیں بجائے جمع کے واحد مخاطب کا صیغہ کیوں استعمال کیا گیا۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس وحدت سے وحدت جنسی مراد ہے جو جماعت کا حکم رکھتی ہے اگر تم اوّل سے آخر تک قرآن شریف کو پڑھوتو یہ عام محاورہ اُس میں پاؤ گے کہ وہ اکثر مقامات میں جماعت کو فرد واحد کی صورت میں مخاطب کرتا ہے مثلا نمونہ کے طور پر ان آیات کو دیکھو۔لَا تَجْعَلْ مَعَ اللهِ إلهَا أَخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُومًا محدولان وَقَضَى رَبُّكَ أَلَا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانٌ إما يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أو كلهما فَلَا تَقُل لَّهُمَا أَفْ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا وَاخْفِضْ لَهَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْسَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيني صغير الله (بنی اسرائیل ۲۳تا۲۵) یعنی خدائے تعالی کے ساتھ کوئی دوسرا اخدامت ٹھہرا اگر تو نے ایسا کیا تو مذموم اور مخذول ہو کر بیٹھے گا۔اور تیرے خدا نے یہی چاہا ہے کہ تم اس کی بندگی کرو اس کے سوا کوئی اور دوسرا تمہارا معبود نہ ہو اور ماں باپ سے احسان کر اگر وہ دونو یا ایک اُن میں سے تیرے سامنے بڑی عمر تیک پہنچ جائیں تو تو اُن کو اُف نہ کر اور نہ اُن کو جھڑک بلکہ اُن سے ایسی باتیں کہہ کہ جن میں اُن کی بزرگی اور عظمت پائی جائے اور تذلل اور رحمت سے ان کے سامنے اپنا بازو جھکا اور دعا کر کہ اے میرے رب تو ان پر رحم کر جیسا اُنہوں نے میرے بچپن کے زمانے میں میری پرورش کی۔اب دیکھو کہ ان آیات میں یہ ہدایت ظاہر ہے کہ یہ واحد کا خطاب جماعت اُمت کی طرف ہے جن کو بعض دفعہ انہیں آیتوں میں تم کر کے بھی پکارا گیا ہے۔اور آنحضرت ﷺ ان آیات میں مخاطب نہیں کیونکہ ان آیتوں میں والدین کی تعظیم و تکریم اور اُن کی نسبت بر واحسان الله کا حکم ہے اور ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کے والدین تو صغرنی کے زمانے میں بلکہ جناب ممدوح