آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 443
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 443 باب دہم چکے ہیں۔وَهَذَا أَخِرُ كَلَا مِنَا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ أَوَّلا واخِرًا وَّ ظَاهِرًا وَّ بَاطِئًا - هُوَ مَوْلَانَا نعم المولى ونعم الوكيل ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات، روحانی خزائن جلد نمبر ۴ صفحه ۴۵۳ تا ۴۸۲) ☆ اسی سوال کے جواب میں حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب فرماتے ہیں : میں نے قرآن کریم کو اس سوال کے خیال پر بہت بار دیکھا مگر باہمہ تامل و تشکر مجھے کچھ معلوم نہ ہوا کہ سائل نے قرآن مجید کی کون سی آیت سے ایسا سوال نکالا۔خاکسار سائل کے سوال کو بغرض سہولت بیان تین حصوں پر تقسیم کرتا ہے۔حصہ اوّل سوال کا یہ ہے۔اگر محمد مپیغمبر ہوتے تو اس وقت کے سوالوں کے جواب میں لا چا ر ہو کر یہ نہ کہتے کہ خدا کو معلوم ہے یعنی مجھے معلوم نہیں۔خاکسار عرض پرداز ہے۔مخالف اور موافق لوگوں نے حضور علیہ السلام سے جس قدر سوال کئے اُن کا جواب اگر ممکن تھا تو حضور علیہ السلام نے ضرور دیا ہے۔قرآن میں حسب ذیل سوالات کا تذکرہ موجود ہے منصف غور کریں۔اوّل رمضان کے مہینہ اور روزوں کے چاند کا تذکرہ جب قرآن کریم نے کیا تو لوگوں نے رمضان کے اور اور چاندوں کا حال دریافت کیا۔جیسے قرآن کہتا ہے۔اور ماہ رمضان کے تذکرہ کے بعد اس سوال کا تذکرہ کرتا ہے:۔يونك في الآجلة (البقرة : ١٩٠) ہو مجھتے ہیں تجھے سے رمضان کے سوا اور چاندوں کا حال یعنی ان میں کیا کرنا ہے اس سوال کا جواب سوال کے بعد ہی بیان کیا گیا اور جواب ديا - قل هى مواقيت للناس والحج تو اس سوال کے جواب میں کہہ دے یہ چاند لوگوں کے فائدہ اٹھانے کے وقت ہیں اور بعضے چاندوں میں حج کے اعمال ادا کئے جاتے ہیں۔