آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 442
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 442 باب دہم کے مقابل پر اگر کوئی عیسائی یا آریہ یا یہودی قبولیت کے آثا رو انوار دکھلانا چاہے تو یہ اس کے لئے ہرگز ممکن نہ ہوگا اور نہایت صاف طریق امتحان کا یہ ہے کہ اگر ایک مسلمان صالح کے مقابل پر جو سچا مسلمان اور سچائی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا متبع ہو کوئی دوسر الشخص عیسائی وغیرہ معارضہ کے طور پر کھڑا ہو اور یہ کہے کہ جس قدر تجھ پر آسمان سے کوئی نشان ظاہر ہوگا ، یا جس قد را سراب غیبیہ تجھ پر کھلیں گے، یا جو کچھ قبولیت دعاؤں سے تجھے مدددی جائے گی ، یا جس طور سے تیری عزت اور شرف کے اظہار کے لئے کوئی نمونہ قدرت ظاہر کیا جائے گا، یا اگر انعامات خاصہ کا بطور پیش کوئی تجھے وعدہ دیا جائے گا، یا اگر تیرے کسی موذی مخالف پر کسی تنبیہہ کے نزول کی خبر دی جائے گی تو اُن سب باتوں میں جو کچھ تجھ سے ظہور میں آئیگا اور جو کچھ تو دکھائے گا، وہ میں بھی ++ دکھلاؤں گا۔تو ایسا معارضہ کسی مخالف سے ہر گز ممکن نہیں اور ہرگز مقابل پر نہیں آئیں گے کیونکہ اُن کے دل شہادت دے رہے ہیں کہ وہ کذاب ہیں۔انہیں اس بچے خدا سے کچھ بھی تعلق نہیں کہ جو راستبازوں کامد دگا را در صدیقوں کا دوست دار ہے۔جیسا کہ ہم پہلے بھی کسی قدر بیان کر اُترتے ہیں (یعنی الہام یا رویائے صالحہ کے ذریعہ سے انہیں بتا رتیں ملتی ہیں ) کہ دنیا اور آخرت میں ہم تمہارے دوست اور متوئی اور مکمل ہیں اور آخرت میں جو کچھ تمہارے جی چاہیں گے وہ سب تمہیں ملے گا۔یعنی اگر دنیا میں کچھ مکروہات بھی پیش آویں تو کوئی اندیشہ کی بات نہیں کیونکہ آخرت میں تمام غم دور ہو جائیں گے اور سب مرادیں حاصل ہوں گی۔اگر کوئی کہے کہ یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ آخرت میں جو کچھ انسان کا نفس چاہے اس کو ملے میں کہتا ہوں کہ یہ ہونا نہایت ضروری ہے اور اسی بات کا نام نجات ہے ورنہ اگر انسان نجات پا کر بعض چیزوں کو چا ہتا رہا اور ان کے غم میں کباب ہوتا اور جلتا رہا مگر وہ چیز میں اس کونہ ملیں تو پھر نجات کا ہے کی ہوئی۔ایک قسم کا عذاب تو ساتھ ہی رہا۔لہذا ضرور ہے کہ جنت یا بہشت یا مکئی خانہ یا مرگ جو نام اس مقام کا رکھا جائے جو انتہا سعادت پانے کا گھر ہے وہ ایسا گھر چاہئے کہ انسان کو من کل الوجوہ اس میں مصفا خوشی حاصل ہوا ور کوئی ظاہری یا باطنی رنج کی بات درمیان نہ ہو اور کسی نا کامی کی سوزش دل پر غالب نہ ہو۔ایک قسم کا عذاب تو ساتھ ہی رہا۔لہذا ضرور ہے کہ جنت یا بہشت یا سکتی خانہ یا مرگ جو نام اس مقام کا رکھا جائے جو انتہا سعادت پانے کا گھر ہے وہ ایسا گھر چاہئے کہ انسان کو من کل الوجود اس میں مصفحا خوشی حاصل ہوا اور کوئی ظاہری یا باطنی رنج کی بات درمیان نہ ہو اور کسی نا کامی کی سوزش دل پر غالب نہ ہو۔