آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 441 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 441

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 441 باب دہم کبریائی کی مستی اور روحانی لذت یابی اور تنعم کے آنا راس کے چہرہ میں نمایاں ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے۔تَعْرِفُ فِي وُجُوهِهِمْ نَضَرَةُ النَّعِيمِ (المطففين: ۳۵) ة إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلكَةُ أَلَا تَخَافُوا وَلا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ انَتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أوليوم لِيَؤُكُمْ في الحيوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا هَا تَدْعُونَ، حم السجدة ۳۲۲۳) وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِني قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ ☆ إذَا دَعَانِ فَنَيَجِوانِى وَيُؤْمِنو فى لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ) (البقرة) اب جانا چاہئے کہ محبوبیت اور قبولیت اور ولایت حلقہ کا درجہ جس کے کسی قدر مختصر طور پر نشان بیان کر چکا ہوں۔یہ بجز اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر گز حاصل نہیں ہوسکتا۔اور بچے متبع حاشیه خبر دار ہو یعنی یقینا کچھ کہ جو لوگ اللہ (جلشانہ ) کے دوست ہیں یعنی جو لوگ خدائے تعالی سے کچی محبت رکھتے ہیں اور خدائے تعالیٰ ان سے محبت رکھتا ہے تو ان کی یہ نشانیاں ہیں کہ ندان پر خوف مستولی ہوتا ہے کہ کیا کھا ئیں گے یا کیا پئیں گے یا فلاں بلا سے کیونکر نجات ہوگی کیونکہ وہ تسلی دیئے جاتے ہیں اور نہ گزشتہ سے متعلق کوئی حزن واند وہ انہیں ہوتا ہے کیونکہ وہ ہمبر دیئے جاتے ہیں۔دوسری یہ نشانی ہے کہ وہ ایمان رکھتے ہیں یعنی ایمان میں کامل ہوتے ہیں اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں یعنی خلاف ایمان و خلاف فرمانبرداری جو باتیں ہیں اُن سے بہت دور رہتے ہیں۔تیسری اُن کی یہ نشانی ہے کہ انہیں (بذریعہ مکالمہ الہیہ و رویائے صالحہ بنتا رتیں ملتی رہتی ہیں ) اس جہان میں بھی اور دوسرے جہان میں بھی خدائے تعالیٰ کا ان کی نسبت یہ عہد ہے جو عمل نہیں سکتا اور یہی پیارا درجہ ہے جو انہیں ملا ہوا ہے۔یعنی مکالمہ الہیہ اور رویائے صالحہ سے خدائے تعالیٰ کے مخصوص بندوں کو جو اس کے ولی ہیں ضرور حصہ ملتا ہے اور ان کی ولایت کا بھاری نشان یہی ہے کہ مکالمات و مخاطبات الہیہ سے مشرف ہوں (یہی قانونِ قدرت اللہ جلشانہ کا ہے ) کہ جولوگ ارباب متفرقہ سے منہ پھیر کر اللہ جاھانہ کو اپنا رب سمجھ لیں اور کہیں کہ ہمارا تو ایک اللہ ہی رہے ہے ( یعنی اور کسی کی ربوبیت پر ہماری نظر نہیں ) اور پھر آزمائشوں کے وقت میں مستقیم رہیں ( کیسے ہی زلزلے آویں ، آندھیاں چلیں، تاریکیاں پھیلیں ان میں ذرا تزلزل اور تغیر اور اضطراب پیدا نہ ہو پوری پوری استقامت پر رہیں ) تو ان پر فرشتے