آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 440 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 440

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 440 باب دہم ادعیہ میں مابہ الامتیاز یہ ہے کہ جو ابتلاء کے طور پر دعا قبول ہوتی ہے اس میں متقی اور خدا دوست ہونا شرط نہیں اور نہ اس میں یہ ضرورت ہے کہ خدائے تعالی دعا کو قبول کر کے بذریعہ اپنے مکالمہ خاص کے اس کی قبولیت سے اطلاع بھی دیوے اور نہ وہ دعائیں ایسی اعلیٰ پایہ کی ہوتی ہیں جن کا قبول ہونا ایک امر عجیب اور خارق عادت متصور ہو سکے لیکن جو دعائیں اصطفاء کی وجہ سے قبول ہوتی ہیں ان میں یہ نشان نمایاں ہوتے ہیں۔(۱) اول یہ کہ دعا کرنے والا ایک متقی اور راست باز اور کامل فرد ہوتا ہے۔(۲) دوسرے یہ کہ بذریعہ مکالمات الہیہ اُس دعا کی قبولیت سے اس کو اطلاع دی جاتی ہے۔(۳) تیسری یہ کہ اکثر وہ دعائیں جو قبول کی جاتی ہیں نہایت اعلیٰ درجہ کی اور پیچیدہ کاموں کے متعلق ہوتی ہیں، جن کی قبولیت سے کھل جاتا ہے کہ یہ انسان کا کام اور تدبیر نہیں بلکہ خدائے تعالیٰ کا ایک خاص نمونہ قدرت ہے جو خاص بندوں پر ظاہر ہوتا ہے۔(۴) چوتھی یہ کہ ابتلائی دعا ئیں تو کبھی کبھی شاذونا در کے طور پر قبول ہوتی ہیں لیکن اصطفائی دعائیں کثرت سے قبول ہوتی ہیں۔بسا اوقات صاحب اصطفائی دعا کا ایسی بڑی بڑی مشکلات میں پھنس جاتا ہے کہ اگر اور شخص ان میں مبتلا ہو جاتا تو بجز خودکشی کے اور کوئی حیلہ اپنی جان بچانے کیلئے ہرگز اُسے نظر نہ آتا۔چنانچہ ایسا ہونا بھی ہے کہ جب کبھی دنیا پرست لوگ جو خدائے تعالیٰ سے مہجور و دور ہیں بعض بڑی بڑی ہموم و غموم وامراض و استقام وبلیات لانجیل میں بتلا ہو جاتے ہیں تو آخر وہ باعث ضعف ایمان خدائے تعالیٰ سے نا امید ہو کر کسی قسم کی زہر کھا لیتے ہیں یا کوئیں میں گرتے ہیں یا بندوق وغیرہ سے خود کشی کر لیتے ہیں لیکن ایسے نازک وقتوں میں صاحب اصطفاء کا بوجہ اپنی قوت ایمانی اور تعلق خاص کے خدائے تعالی کی طرف سے نہایت عجیب در عجیب مدد دیا جاتا ہے اور عنایت الہی ایک عجیب طور سے اس کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے یہاں تک کہ ایک محرم را ز کا دل بے اختیار بول اُٹھتا ہے کہ یہ شخص مؤید الہی ہے۔+ (۵) پانچویں یہ کہ صاحب اصطفائی دعا کا مورد عنایات الہیہ کا ہوتا ہے اور خدائے تعالیٰ اس کے تمام کاموں میں اس کا متولی ہو جاتا ہے اور عشق الہی کا نور اور مقبولا نہ