آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 439 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 439

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 439 باب و هم اس جگہ میں نے بچے اور جھوٹے مذہب کی تفریق کیلئے وہ فرق جوزمین پر موجود ہے یعنی جو باتیں عقل اور کانشنس کے ذریعہ سے فیصلہ ہو سکتی ہیں، کسی قد رلکھ دیا ہے لیکن جو فرق آسمان کے ذریعہ سے کھلتا ہے وہ بھی ایسا ضروری ہے کہ بجز اس کے حق اور باطل میں امتیاز بین نہیں ہوسکتا اور وہ یہ ہے کہ بچے مذہب کے پیرو کے ساتھ خدائے تعالی کے ایک خاص تعلقات ہو جاتے ہیں اور وہ کامل پیرو اپنے نبی متبوع کا مظہر اور اس کے حالات روحانیہ اور برکات با طفیہ کا ایک نمونہ ہو جاتا ہے اور جس طرح بیٹے کے وجو د درمیانی کی وجہ سے ہوتا بھی بیٹا ہی کہلاتا ہے اسی طرح جو شخص زیر سایہ متابعت نبی پرورش یافتہ ہے اس کے ساتھ بھی وہی لطف اور احسان ہوتا ہے جو نبی کے ساتھ ہوتا ہے اور جیسے نبی کو نشان دکھائے جاتے ہیں ایسا ہی اس کی خاص طور پر معرفت بڑھانے کیلئے اس کو بھی نشان ملتے ہیں۔سو ایسے لوگ اس دین کی سچائی کے لئے جس کی تائید کے لئے وہ ظہور فرماتے ہیں، زندہ نشان ہوتے ہیں۔خدائے تعالیٰ آسمان سے ان کی تائید کرتا ہے اور بکثرت ان کی دعائیں قبول فرماتا ہے اور قبولیت کی اطلاع بخشتا ہے۔ان پر مصیبتیں بھی نازل ہوتی ہیں مگر اس لئے نازل نہیں ہوتیں کہ انہیں بلاک کریں بلکہ اس لئے کہ تا آخران کی خاص تائید سے قدرت کے نشان ظاہر کئے جائیں۔وہ بے عزتی کے بعد پھر عزت پالیتے ہیں اور مرنے کے بعد پھر زندہ ہو جایا کرتے ہیں نا خدائے تعالی کے خاص کام ان میں ظاہر ہوں۔اس جگہ یہ نکتہ یا در رکھنے کے لائق ہے کہ دعا کا قبول ہونا دوطور سے ہوتا ہے۔ایک بطور ابتلاء اور ایک بطور اصطفاء بطور ابتلا تو کبھی بھی گنہگاروں اور نافرمانوں بلکہ کافروں کی دعا بھی قبول ہو جاتی ہے مگر ایسا قبول ہونا حقیقی قبولیت پر دلالت نہیں کرتا بلکہ از قبیل استدراج وامتحان ہوتا ہے لیکن جو بلو راصطفاء دعا قبول ہوتی ہے اس میں یہ شرط ہے کہ دعا کرنے والا خدائے تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں میں سے ہو اور چاروں طرف سے برگزیدگی کے انوار و آثا راس میں ظاہر ہوں کیونکہ خدائے تعالیٰ حقیقی قبولیت کے طور پر نافرمانوں کی دعا ہر گز نہیں سنتا بلکہ انہیں کی سنتا ہے کہ جو اس کی نظر میں راستباز اور اس کے حکم پر چلنے والے ہوں۔سو ابتلا ء اور اصطفاء کی قبولیت