آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 435 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 435

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 435 باب دہم اس کے چیلے جو پہلے تھے اب بھی ہیں۔چوری، ڈکیتی، زنا قبل ، دروغ کوئی شراب خواری قمار بازی دنیا پرستی، بے ایمانی، کفر شرک، دہر یہ پن اور دوسرے صد با طرح کے جرائم جو قبل از مصلوبیت مسیح تھے اب بھی اسی زور و شور میں ہیں بلکہ کچھ چڑھ بڑھ کر۔مثلا دیکھئے کہ اس زمانہ میں کہ جب ابھی مسیحیوں کا خدا زندہ تھا عیسائیوں کی حالت اچھی تھی جسیمی کہ اس خدا پر موت آئی جس کو کفارہ کہا جاتا ہے۔تبھی سے عجیب طور پر شیطان اس قوم پر سوار ہو گیا اور گناہ اور نا فرمانی تازہ اخبارات سے معلوم ہوا ہے کہ تیرہ کروڑ ساٹھ ہزار پاؤنڈ ہر سال سلطنت کے طانیہ میں شراب کشی اور شراب نوشی میں خرچ ہوتا ہے (اور ایک نامہ نگار ایم اے کی تحریر ہے ) کہ شراب کی بدولت لندن میں صد با خود کشی کی وارداتیں ہو جاتی ہیں اور خاص لندن میں شاید مجملہ میں لاکھ آبادی کے دس ہزار آدمی سے نوش نہ ہوں گے، ورنہ سب مرد اور عورت خوشی اور آزادی سے شراب پیتے اور پلاتے ہیں۔اہل لندن کا کوئی ایسا جلسہ اور سوسائٹی اور محفل نہیں ہے کہ جس میں سب سے پہلے برانڈی اور شری اور لال شراب کا انتظام نہ کیا جاتا ہو۔ہر ایک جلسہ کا جزو اعظم شراب کو قرار دیا جاتا ہے اور طرف ہر آں یہ کہ لندن کے بڑے بڑے تقسیس اور پادری صاحبان بھی با وجود دیندار کہلانے کے مے نوشی میں اول درجہ ہوتے ہیں۔جتنے جلسوں میں مجھ کو بطفیل مسٹر نکلیٹ صاحب شامل ہونے کا اتفاق ہوا ہے ان سب میں ضرور دو چار نوجوان پادری اور ریورنڈ بھی شامل ہوتے دیکھے۔لندن میں شراب نوشی کو کسی بری مد میں شامل نہیں سمجھا گیا اور یہاں تک شراب نوشی کی علانیہ گرم بازاری ہے کہ میں نے بچشم خود ہنگام سیرلندن اکثر انگریزوں کو بازار میں پھرتے دیکھا کہ متوالے ہو رہے ہیں اور ہاتھ میں شراب کی بوتل ہے۔على هذا القياس لندن میں عورتیں دیکھی جاتی تھیں کہ ہاتھ میں بوتل بیئر پکڑے لڑکھڑاتی چلی جاتی ہیں۔بیسیوں لوگ شراب سے مدہوش اور متوالے ، اچھے بھلے، بھلے مانس مہذب بازاروں کی نالیوں میں گرے ہوئے دیکھے۔شراب نوشی کے طفیل اور برکت سے لندن میں اس قد رخود کشی کی وارداتیں واقعہ ہوتی رہتی ہیں کہ ہر ایک سال اُن کا ایک مہلک وبا پڑتا ہے ( یکم فروری ۱۸۸۳ ء۔رہبر ہند لاہور ) اسی طرح ایک صاحب نے لندن کی عام زنا کاری اور قریب ستر ستر ہزار کے ہر سال ولد الزر نا پیدا ہونا ذکر کر کے وہ باتیں ان لوگوں کی بے حیائی کی لکھی ہیں کہ جن کی تفصیل سے قلم رکتی ہے۔بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ یورپ کے اول درجہ کے مہذب اور تعلیم یا فتہ لوگوں کے اگر دس حصے کئے جائیں تو بلاشبہ نو حصے ان میں سے دہریہ ہوں گے جو نہ ہب کی پابندی اور خدائے تعالیٰ کے اقرار اور جزا سزا کے اعتقاد سے فارغ ہو بیٹھے ہیں اور یہ مرض دہریت کا دن بدن یورپ میں بڑھتا جاتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ دولت کہ طانیہ کی کشادہ دلی