آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 434
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 484 باب و ہم یاد دلاتا ہے اور اس کے اسرار غامضہ کو کھولتا ہے اور کوئی نئے امور پر خلاف اس کے پیش نہیں کرتا بلکہ در حقیقت اُس کے معارف دقیقہ ظاہر کرتا ہے۔بر خلاف اس کے عیسائیوں کی تعلیم جس کا انجیل پر حوالہ دیا جاتا ہے ایک نیا خدا پیش کر رہی ہے جس کی خود کشی پر دنیا کے گناہ اور عذاب سے نجات موقوف اور اس کے دُکھ اُٹھانے پر خلقت کا آرام موقوف اور اس کے بے عزت اور ذلیل ہونے پر خلقت کی عزت موقوف خیال کی گئی ہے۔پھر بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایک ایسا عجیب خدا ہے کہ ایک حصہ اس کی عمر کا تو منزه عن الجسم وعن عيوب الجسم میں گزرا ہے اور کی دوسرا حصہ عمر کا کسی نامعلوم بد بختی کی وجہ سے ) ہمیشہ کے جسم اور تحیر کی قید میں اسیر ہو گیا اور گوشت پوست استخوان وغیرہ سب کے سب اس کی روح کے لئے لازمی ہو گئے اور اس بجسم کی وجہ سے، کہ اب ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گا، انواع اقسام کے اس کو دکھ اٹھانے پڑے آخر دکھوں کے غلبہ سے مر گیا اور پھر زندہ ہوا اور اُسی جسم نے پھر آ کر اس کو پکڑلیا اور ابدی طور پر اُسے پکڑے رہے گا۔کبھی مخلصی نہیں ہوگی۔اب دیکھو کہ کیا کوئی فطرت صحیحہ اس اعتقاد کو قبول کر سکتی ہے؟ کیا کوئی پاک کانشنس اس کی شہادت دے سکتا ہے؟ کیا قانون قدرت کا ایک جزو بھی خدائے بے عیب و بے تقص و غیر متغیر کیلئے یہ حوادث و آفات روار کھ سکتا ہے کہ اس کو ہمیشہ ہر ایک عالم کے پیدا کرنے اور پھر اس کو نجات دینے کیلئے ایک مرتبہ مرنا درکار ہے اور بحجرہ خود کشی اپنے کسی افاضہ خیر کی صفت کو ظاہر نہیں کر سکتا اور نہ کسی قسم کا اپنی مخلوقات کو دنیا یا آخرت میں آرام پہنچا سکتا ہے۔ظاہر ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ کو اپنی رحمت بندوں پر نازل کرنے کیلئے خودکشی کی ضرورت ہے تو اُس سے لازم آتا ہے کہ ہمیشہ اس کو حادی موت کا پیش آتا رہے اور پہلے بھی ہے شمار موتوں کا مزہ چکھ چکا ہوا اور نیز لازم آتا ہے کہ ہندوؤں کے پر میشر کی طرح معطل الصفات ہو۔اب خود ہی سوچو کہ کیا ایسا عاجز اور درماندہ خدا ہو سکتا ہے کہ جو بغیر خود کشی کے اپنی مخلوقات کو کبھی اور کسی زمانہ میں کوئی بھلائی پہنچا نہیں سکتا۔کیا یہ حالت ضعف اور نا توانی کی خدائے قادر مطلق کے لائق ہے؟ پھر عیسائیوں کے خدا کی موت کا نتیجہ دیکھئے تو کچھ بھی نہیں۔ان کے خدا کی جان گئی مگر شیطان کے وجود اور اس کے کارخانہ کا ایک ہال بھی بیکا نہ ہوا۔وہی شیطان اور وہی