آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 436 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 436

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 436 باب و ہم اور نفس پرستی کے ہزار ہا دروازے کھل گئے۔چنانچہ عیسائی لوگ خود اس بات کے قائل ہیں اور پادری فنڈ ر صاحب مصنف میزان الحق فرماتے ہیں کہ عیسائیوں کی کثرت گناہ اور اُن کی اندرونی بد چلنی اور فسق و فجور کے پھیلنے کی وجہ سے ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم بغرض سزا دہی اور تنبیہ عیسائیوں کے بھیجے گئے تھے۔پس ان تقریروں سے ظاہر ہے کہ زیادہ تر گناہ اور معصیت کا طوفان مسیح کے مصلوب ہونے کے بعد ہی عیسائیوں میں اُٹھا ہے۔اس سے ثابت ہے کہ میسیج کا مرنا اس غرض سے نہیں تھا کہ گناہ کی تیزی اس کی موت سے کچھ رویہ کمی ہو جائے گی مثلا اس کے بقیہ حاشیہ نے اس کی ترقی سے کچھ بھی کراہت نہیں کی۔یہاں تک کہ بعض کے دہر یہ پارلیمنٹ کی کرسی پر بھی بیٹھ گئے اور کچھ پرواہ نہیں کی گئی نا محرم لوگوں کو نو جوان عورتوں کا بوسہ لینا صرف جائزہ ہی نہیں بلکہ یورپ کی نئی تہذیب میں ایک مستحسن امر قرار دیا گیا ہے۔کوئی دعویٰ سے نہیں کہہ سکتا کہ انگلستان میں کوئی ایسی عورت بھی ہے کہ جس کا عین جوانی کے دنوں میں کسی نامحرم جوان نے بوسہ نہ لیا ہو۔دنیا پرستی اس قدر ہے کہ آروپ الیگزانڈر صاحب اپنی ایک چٹھی میں (جو میرے نام بھیجی ہے ) لکھتے ہیں کہ تمام مہذب اور تعلیم یا فتہ جو اس ملک میں پائے جاتے ہیں۔ان میں سے ایک بھی میری نظر میں ایسا نہیں جس کی نگاہ آخرت کی طرف لگی ہوئی ہو بلکہ تمام لوگ سر سے پیر تک دنیا پرستی میں مبتلا نظر آتے ہیں۔اب ان تمام بیانات سے ظاہر ہے کہ مسیح کے قربان ہونے کی وہ تاثیریں جو پادری لوگ ہندوستان میں آ کر سادہ لوحوں کو سناتے ہیں، سراسر پادری صاحبوں کا افترا ہے۔اور اصل حقیقت یہی ہے کہ کفارہ کے مسئلہ کو قبول کر کے جس طرف عیسائیوں کی طبیعتوں نے پلٹا کھایا ہے وہ یہی ہے کہ شراب خواری بکثرت پھیل گئی۔زنا کاری اور بد نظری شیر ما در کبھی گئی۔قمار بازی کی از حد ترقی ہو گئی۔خدائے تعالیٰ کی عبادت سچے دل سے کرنا اور بنگی روبجق ہو جانا یہ سب باتیں موقوف ہو گئیں۔ہاں انتظامی تہذیب یورپ میں بے شک پائی جاتی ہے۔یعنی یا ہم رضامندی کے بر خلاف جو گناہ ہیں جیسے سرقہ اور قتل اور زنا بالجبر وغیرہ جن کے ارتکاب سے شاہی قوانین نے بوجہ مصالح ملکی روک دیا ہے ان کا انسداد بے شک ہے مگر ایسے گناہوں کے انسداد کی یہ وجہ نہیں کہ مسیح کے کھارہ کا اثر ہوا ہے بلکہ رعب قوانین اور سوسائٹی کے دبا ؤ نے یہ اثر ڈالا ہوا ہے اگر یہ مواقع درمیان نہ ہوں تو حضرات مسیحیان سب کچھ کر گزریں اور پھر یہ جرائم بھی تو اور ملکوں کی طرح یورپ میں بھی ہوتے ہی رہتے ہیں انسداد گلگی تو نہیں۔• - Ate