آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 433 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 433

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 433 باب و هم ملکوں میں شائع کئے ہیں مگر ان کے اندر جو نور چھپا ہوا ہے وہ پاکیزہ دلوں پر اپنا کام کر رہا ہے۔غرض امریکہ اور یورپ آج کل ایک جوش کی حالت میں ہے اور انجیل کے عقیدوں نے جو بر خلاف حقیقت ہیں بڑی گھبراہٹ میں انہیں ڈال دیا ہے یہاں تک کہ بعضوں نے یہ رائے ظاہر کی کہ مسیح یا عیسی نام (کا) خارج میں کوئی شخص کبھی پیدا نہیں ہوا بلکہ اس سے آفتاب مراد ہے اور بارہ حواریوں سے بارہ برج مراد ہیں۔اور پھر اس مذہب عیسائی کی حقیقت زیادہ تر اس بات سے کھلتی ہے کہ جن نشانیوں کو حضرت مسیح ایمان داروں کے لئے قرار دئیے گئے تھے اُن میں سے ایک بھی ان لوگوں میں نہیں پائی جاتی حضرت مسیح نے فرمایا تھا کہ اگر تم میری پیروی کرو گے تو ہر ایک طرح کی برکت اور قبولیت میں میرا ہی روپ بن جاؤ گے اور معجزات اور قبولیت کے نشان تم کو دیے جائیں گے اور تمہارے مومن ہونے کی یہی علامت ہوگی کہ تم طرح طرح کے نشان دکھلا سکو گے اور جو چاہو گے تمہارے لئے وہی ہوگا۔اور کوئی بات تمہارے لئے ناممکن نہیں ہوگی۔لیکن عیسائیوں کے ہاتھ میں ان برکتوں میں سے کچھ بھی نہیں۔وہ اس خدا سے نا آشنامحض ہیں جو اپنے مخصوص بندوں کی دعائیں سنتا ہے اور انہیں آمنے سامنے شفقت اور رحمت کا جواب دیتا ہے۔اور عجیب عجیب کام ان کے لئے کر دکھاتا ہے لیکن بچے مسلمان جو اُن راستبازوں کے قائم مقام اور وارث ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں وہ اُس خدا کو پہچانتے اور اس کی رحمت کے نشانوں کو دیکھتے ہیں۔اور اپنے مخالفوں کے سامنے آفتاب کی طرح جو ظلمت کے مقابل ہو ما به الامتیاز رکھتے ہیں۔ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ اس دعوی کو بلا دلیل نہیں سمجھنا چاہئے بچے اور جھوٹے مذہب میں ایک آسمان پر فرق ہے اور ایک زمین پر۔زمین کے فرق سے مراد وہ فرق ہے جو انسان کی عقل اور انسان کا کانشنس اور قانون قدرت اس عالم کا اس کی تشریح کرتا ہے۔سو عیسائی مذہب اور اسلام کو جب اس ملک کی رو سے جانچا جائے تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ اسلام وہ فطرتی مذہب ہے جس کے اصولوں میں کوئی تصنع اور تکلف نہیں اور جس کے احکام کوئی مستحدث اور بناوٹی امر نہیں اور کوئی ایسی بات نہیں جو زبر دستی منوانی پڑے اور جیسا کہ خدائے تعالی نے جابجا آپ فرمایا ہے۔قرآن شریف صحیفہ فطرت کے تمام علوم اور اس کی صداقتوں کو