آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 28
آنحضرت پیر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 28 باب اول دور کرنے کے لئے ان آیات میں اُن کو تسلی دی گئی کہ اس بات سے متر دو ہی ہوں کہ پہلے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے پڑھتے اب اُس طرف سے ہٹ کر خانہ کعبہ کی طرف نماز پڑھنا کیوں شروع کر دیا سوفر مایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ وہی مقرر شدہ بات ہے جس کو خدائے تعالیٰ نے اپنے پہلے نبیوں کے ذریعے سے پہلے ہی سے بتلا رکھا تھا اس میں شک مت کرو۔دوسری آیت میں جو معترض نے بتائید دعوی خود تحریر کی ہے وہ سورہ انعام کی ایک آیت ہے جو معہ اپنی آیات متعلقہ کے اس طرح پر ہے أَفَغَيْرَ اللهِ ابْتَغِی حَكَمًا وَهُوَ الَّذِي أَنزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَبَ مُفَصلًا وَالَّذِينَ أَتَيْنَهُمُ الْكِذَبَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُ منزل منكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ (الانعام: ۱۱۵) یعنی کیا بجز خدا کے میں کوئی اور حاکم طلب کروں اور وہ وہی ہے جس نے مفصل کتاب تم پر اُتاری اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب یعنی قرآن دیا ہے مراد یہ ہے کہ جن کو ہم نے عالم قرآن سمجھایا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ وہ منجانب اللہ ہے سوائے پڑھنے والے تو شک کرنے والوں میں سے مست ہو۔اب ان آیات پر نظر ڈالنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مخاطب اس آیت کے جو فَلا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِین ہے ایسے لوگ ہیں جو ہنوز یقین اور ایمان اور علم سے کم حصہ رکھتے ہیں بلکہ اوپر کی آیتوں سے یہ بھی کھلاتا ہے کہ اس جگہ یہ حکم فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الممترين كا پیغمبر خدا اللہ کا قول ہے جس کا قرآن شریف میں ذکر کیا گیا ہے کیونکہ شروع کی آیت میں جس سے یہ آیت تعلق رکھتی ہے آنحضرت ﷺ کا ہی قول ہے یعنی یہ کہ افَغَيْرَ الله ابتغى حكما سو ان تمام آیات کا با محاورہ ترجمہ یہ ہے کہ میں بجز خدائے تعالیٰ کے کوئی اور خام جو مجھ میں اور تم میں فیصلہ کرے مقرر نہیں کر سکتا وہ وہی ہے جس نے تم پر مفصل کتاب نازل کی سوجن کو اس کتاب کا علم دیا گیا ہے وہ اس کا منجانب اللہ ہونا خوب جانتے ہیں سو تو (اے بے خبر آدمی ) شک کرنے والوں میں سے مت ہو۔اب تحقیق سے ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ خود شک نہیں کرتے بلکہ شک کرنے والوں کو بحوالہ شواہد و دلائل منع فرماتے ہیں پس با وجود ایسے کھلے کھلے بیان کے آنحضرت ﷺ کی طرف