آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 432 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 432

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 432 باب و هم ظاہر کر رہا ہو۔ہر چہار انجیلوں سے وہ کارستانی ظاہر ہورہی ہے جس کو انہوں نے چھپانا چاہا تھا۔اسی وجہ سے یورپ اور امریکہ میں غور کرنے والوں کی طبیعتوں میں ایک طوفانِ شکوک پیدا ہو گیا ہے اور جس ناقص اور متغیر اور مجسم خدا کی طرف انجیل رہنمائی کر رہی ہے اس کے قبول کرنے سے وہ دہر یہ رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔چنانچہ میرے ایک دوست فاضل انگریز نے امریکہ سے بذریعہ اپنی کئی چٹھیوں کے مجھے خبر دی ہے کہ ان ملکوں میں دانشمندوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ عیسائی مذہب کو شخص سے خالی سمجھتا ہو اور اسلام کے قبول کرنے کے لئے مستعد نہ ہو۔اور کو عیسائیوں نے قرآن شریف کے ترجمے محرف اور بد نما کر کے یورپ اور امریکہ کے بقیہ حاشیہ یہ تو عیسائیوں کا بیان ہے۔مگر میں کہتا ہوں کہ چونکہ اُن انجیلوں اور اناجیل اربعہ مروجہ میں بہت کچھ تناقض ہے یہاں تک کہ ہم نباس کی انجیل مسیح کے مصلوب ہونے سے بھی مسکرا اور مسئلہ تثلیث کے بھی مخالف اور مسیح کی الوہیت اور ابنیت کو بھی نہیں مانتی اور نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی صریح لفظوں میں بشارت دیتی ہے۔تو اب عیسائیوں کے اس دعوی بے دلیل کو کیونکر مان لیا جائے کہ جن انجیلوں کو انہوں نے رواج دیا ہے۔وہ تو کچی ہیں اور جو اُن کے مخالف ہیں وہ سب جھوٹی ہیں۔ماسوا اس کے جب کہ عیسائیوں میں جعل کی اس قدر گرم بازاری رہی ہے کہ بعض کامل استادوں بیپوری پوری پھیلیں بھی اپنی طرف سے بنا کر عام طور پر قوم میں انہیں شائع کر دیا اور ایک ذرہ پروں پر پانی پڑنے نہ دیا۔تو کسی کتاب کا محرف مبدل کرنا ان کے آگے کیا حقیقت تھا۔پھر جب کہ یہ بھی تسلیم کر لیا گیا ہے کہ مسیح کے زمانہ میں یہ انجیلیں قلمبند نہیں ہوئیں بلکہ ساٹھ یا ستر برس مسیح کے فوت ہونے کے بعد یا کچھ کم و بیش یا اختلاف روایت اناجیل اربعہ کا مجموعہ دنیا میں پیدا ہوا تو اُس سے ان انجیلوں کی نسبت اور بھی شک پیدا ہوتا ہے۔کیونکہ اس بات کا ثبوت دینا مشکل ہے کہ اس عرصہ تک حواری زند ہ ر ہے ہوں یا اُن کی قو تیں قائم رہی ہوں۔اب ہم سب قصوں کو مختصر کر کے ناظرین کو یہ باور دلاتے ہیں کہ اس بات کا عیسائیوں نے ہرگز صفائی سے ثبوت نہیں دیا کہ بارہ جیلیں جعلی اور چارجن کو رواج دے رہے ہیں جعل اور تحریف سے مبرا ہیں بلکہ وہ ان چاروں کی نسبت بھی خود اقرار کرتے ہیں کہ وہ خالص خدائے تعالیٰ کا کلام نہیں اور اگر وہ ایسا اقرار بھی نہ کرتے تب بھی انجیلوں کے مغشوش ہونے میں کچھ شک نہیں تھا کیونکہ اس بات کا بار ثبوت اُن کے ذمہ ہے۔جس سے آج تک وہ سبکدوش نہیں ہو سکے کہ کیوں دوسری انجیلیں جعلی اور یہ جعلی نہیں۔