آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 431
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 431 باب دہم محقق پادریوں کے انجیلوں کا بیان خود حواریوں کا اپنا ہی کلام ہے اور پھر اپنا چشم دید بھی نہیں اور نہ کوئی سلسلہ راویوں کا پیش کیا ہے اور نہ کہیں ذاتی مشاہدہ کا دعویٰ کیا لیکن قرآن شریف میں انجازات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ خاص خدائے صادق و قدوس کی پاک شہادت ہے۔اگر وہ صرف ایک ہی آیت ہوتی تب بھی کافی ہوتی۔مگر الحمد للہ کہ ان شہادتوں سے سارا قرآن شریف بھرا ہوا ہے۔اب موازنہ کرنا چاہئے کہ کجا خدائے تعالیٰ کی پاک شہادت جس میں کذب ممکن نہیں اور کھانا دیدہ جھوٹ اور مبالغہ آمیز شہادتیں۔به نزدیک دانا ئے بیدار دل جوئے سیم بہتر نے صد تودہ گل افترائی باتوں پر کیوں تعجب کرنا چاہئے۔ایسا بہت کچھ ہوا ہے اور ہوتا ہے۔عیسائیوں کو آپ اقرار ہے کہ ہم میں سے بہت لوگ ابتدائی زمانوں میں اپنی طرف سے کتابیں بنا کر اور بہت کچھ کمالات اپنے بزرگوں کے ان میں لکھ کر پھر خدائے تعالی کی طرف اُن کو منسوب کرتے رہے ہیں اور دعوی کر دیا جاتا تھا کہ وہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے کتا ہیں ہیں۔L- پس جب کہ قدیم عادت عیسائیوں اور یہودیوں کی نہتی جعلسازی چلی آئی ہے تو پھر کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ متی وغیرہ انجیلوں کو اس عادت سے کیوں باہر رکھا جائے؟ حالانکہ اس سا ہو کار کی طرح جس کا روزنامچہ اور بہی کھاتہ بوجہ صریح تناقض اور مشکوکیت کے پوشیدہ حال کو جو کچھ انجیلوں میں نا جائز اور بے ثبوت مبالغہ مجزات حضرت مسیح کی نسبت یا ان کی نا واجب تعریفوں کے بارے میں پایا جاتا ہے۔اس کی تحقیق کرنا مشکل ہے کہ کب اور کس وقت یہ باتیں انجیلوں میں ملائی گئی ہیں۔اگر چہ عیسائیوں کو اقرار ہے کہ خود انجیل نویسوں نے یہ باتیں اپنی طرف سے ملادی ہیں مگر اس عاجز کی دانست میں یہ حاشئے آہستہ آہستہ چڑھے ہیں۔اور جعلساز مکار پیچھے سے بہت کچھ موقع پاتے رہے ہیں ہاں مستقل طور پر کئی جعلی کتابیں جو الہامی ہونے کے نام سے مشہور ہو گئیں حضرات مسیحوں اور یہودیوں نے اوائل دنوں میں ہی تالیف کر کے شائع کر دی تھیں۔چنانچہ اسی جعلسازی کی برکت سے بجائے ایک انجیل کے بہت سی انجیلیں شائع ہو گئیں عیسائیوں کا خود یہ بیان ہے کہ مسیح کے بعد جعلی انجیلیں کئی تالیف ہوئیں۔جیسا کہ مجملہ اُن کے ایک انجیل یہ لباس بھی ہے۔