آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 430 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 430

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 430 باب دہم کے عجائبات تو دنیا میں سما گئے مگر مسیح کی تین یا اڑھائی برس کی سوانح دنیا میں سما نہیں سکتی ایسے مبالغہ کرنے والے لوگوں کی روایت پر کیونکر اعتبار کر لیا جاوے۔ہندوؤں نے بھی اپنے اوتاروں کی نسبت ایسی ہی کتابیں تالیف کی تھیں اور اسی طرح خوب جوڑ جوڑ سے ملا کر جھوٹ کا پل باندھا تھا سو اس قوم پر بھی اس افترا کا نہایت قومی اثر پڑا اور اس سرے سے ملک کے اُس سرے تک رام رام اور کرشن کرشن دلوں میں رچ گیا۔بات یہ ہے کہ مرتب کردہ کتابیں جن میں بہت سا افتراء بھرا ہوا ہو اُن قبروں کی طرح ہوتے ہیں جو باہر سے خوب سفید کی جائیں اور چپکائی جائیں پر اندر کچھ نہ ہو۔اندر کا حال ان بے خبر لوگوں کو کیا معلوم ہو سکتا ہے جو صد ہا برسوں کے بعد پیدا ہوئے اور بنی بنائی کتابیں ایسی متبرک اور بے لوث ظاہر کر کے ان کو دی گئیں کہ گویا وہ اسی صورت اور وضع کے ساتھ آسمان سے اتری ہیں سو وہ کیا جانتے ہیں کہ دراصل یہ مجموعہ کس طرح طیار کیا گیا ہے؟ دنیا میں ایسی تیز نگا ہیں جو پر دوں کو چیرتی ہوئی اندر گھس جائیں اور اصل حقیقت پر اطلاع پالیس اور چور کو پکڑ لیں بہت کم ہیں اور افتراء کے جادو سے متاثر ہونے والی رو میں اس قدر ہیں جن کا اندازہ کرنا مشکل ہے اسی وجہ سے ایک عالم تباہ ہو گیا اور ہوتا جاتا ہے۔نادانوں نے ثبوت یا عدم ثبوت کے ضروری مسئلہ پر کچھ بھی غور نہیں کی اور انسانی منصوبوں اور بندشوں کا جو ایک مستمرہ طریقہ اور نیچر لی امر ہے جو نوع انسان میں قدیم سے چلا آتا ہے اس سے چوکس رہنا نہیں چاہا اور یونہی شیطانی دام کو اپنے پر لے لیا۔مکاروں نے اس شریر کیمیا گر کی طرح جو ایک سادہ لوح سے ہزار رو پید نقد لے کر دس میں لاکھ کا سونا بنا دینے کا وعدہ کرتا ہے سچا اور پاک ایمان نادانوں کا کھویا اور ایک جھوٹی راستبازی اور جھوٹی برکتوں کا وعدہ دیا جن کا خارج میں کچھ بھی وجود نہیں اور نہ کچھ ثبوت۔آخر شرارتوں میں، مکروں میں، دنیا پرستیوں میں نفس امارہ کی پیروی میں اپنے سے بدتر ان کو کر دیا۔بالآخر یہ نکتہ یا د رکھنے کے قابل ہے کہ اعجازات اور پیشگوئیوں کے بارے میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وقوع میں آئیں قرآن شریف کی ایک ذرہ شہادت ، انجیلوں کے ایک تو وہ عظیم سے جو مسیح کے اعجاز وغیرہ کے بارے میں ہو، ہزارہا درجہ بڑھ کر ہے کیوں بڑھ کر ہے؟ اسی وجہ سے کہ خود با قرار تمام