آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 425 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 425

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 425 باب و ہم کسی پہاڑ یا آبادی یا درختوں کی اوٹ میں چھپتا ہوا نظر نہیں آتا تھا جیسا کہ عام دستور ہے بلکہ دلدل میں چھپتا ہوا معلوم دیتا تھا۔مطلب یہ کہ اس جگہ کوئی آبادی یا درخت یا پہاڑ نز دیک نہ تھے بلکہ جہاں تک نظر وفا کرے ان چیزوں میں سے کسی چیز کا نشان نظر نہیں آتا تھا فقط ایک دلدل تھا جس میں سورج چھپتا دکھائی دیتا تھا۔ان آیات کا سیاق سباق دیکھو کہ اس جگہ حکیمانہ تحقیق کا کچھ ذکر بھی ہے فقط ایک شخص کی دُور دراز سیاحت کا ذکر ہے اور ان باتوں کے بیان کرنے سے اسی مطلب کا اثبات منظور ہے کہ وہ ایسے غیر آباد مقام پر پہنچا۔سو اس جگہ ہیئت کے مسائل لے بیٹھنا بالکل بے محل نہیں تو اور کیا ہے؟ مثلاً اگر کوئی کہے کہ آج رات با دل وغیرہ سے آسمان خوب صاف ہو گیا تھا اور ستارے آسمان کے نقطوں کی طرح چپکتے ہوئے نظر آتے تھے تو اس سے یہ جھگڑالے بیٹھیں کہ کیا ستارے نقطوں کی مقدار پر ہیں اور بیت کی کتابیں کھول کھول کر پیش کریں تو بلاشبہ یہ حرکت بے خبروں کی سی حرکت ہوگی کیونکہ اس وقت متکلم کی نیت میں واقعی امر کا بیان کرنا مقصود نہیں وہ تو صرف مجازی طور پر جس طرح ساری دنیا جہان بولتا ہے بات کر رہا ہے۔اے وہ لو گو ! جو عشائے ربانی میں مسیح کا لہو پیتے اور گوشت کھاتے ہو کیا ابھی ایک تمہیں مجازات اور استعارات کی خبر نہیں؟ سب جانتے ہیں کہ ہر ایک ملک کی عام بول چال میں مجازات اور استعارات کے استعمال کا نہایت وسیح دروازہ کھلا ہے اور وحی الہی انہیں محاورات و استعارات کو اختیار کرتی ہے جو سادگی سے عوام الناس نے اپنی روز مرہ کی بات چیت اور بول چال میں اختیار کر رکھی ہیں۔فلسفہ کی دقیق اصطلاحات کی ہر جگہ اور ہر محل میں پیروی کرنا وحی کی طرز نہیں کیونکہ روئے سخن عوام الناس کی طرف ہے۔پس ضرور ہے کہ ان کی سمجھ کے موافق اور ان کے محاورات کے لحاظ سے بات کی جائے۔حقائق و دقائق کا بیان کرنا بجائے خود ہے مگر محاورات کا چھوڑنا اور مجازات اور استعارات عادیہ سے یک لخت کنارہ کش ہونا ایسے شخص کے لئے ہر گز روا نہیں جو عوام الناس سے مذاق پر بات کرنا اس کا فرض منصب ہے نا وہ اس کی بات کو سمجھیں اور ان کے دلوں پر اس کا اثر ہو۔لہذا یہ مسلم ہے کہ کوئی ایسی الہامی کتاب نہیں جس میں مجازات اور استعارات سے کنارہ +