آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 424 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 424

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 424 باب و هم ہے اور جمالی طور پر مگر کافی اور اطمینان بخش اور نہایت مؤثر بیان قرآن شریف میں موجود ہے۔پھر دیگر اہل مذاہب کی طرح مسلمانوں کے ہاتھ میں صرف قصہ ہی نہیں بلکہ وہ تو ہر صدی میں غیر قوموں کو کہتے رہے ہیں اور اب بھی کہتے ہیں کہ یہ سب برکات اسلام ہیں ہمیشہ کے لئے موجود ہیں۔بھائیو! آؤ اول آزماؤ پھر قبول کرو مگر ان آوازوں کو کوئی نہیں سنتا۔حجت الہی ان پر پوری ہے کہ ہم بلاتے ہیں وہ نہیں آتے اور ہم دکھاتے ہیں وہ نہیں دیکھتے۔انہوں نے آنکھوں اور کانوں کو نگلی ہم سے پھیر لیا تا نہ ہو کہ وہ سنیں اور دیکھیں اور ہدایت پاویں۔دوسری غلط فہمی جو معترض نے پیش کی ہے یعنی یہ کہ اصحاب کہف کی تعداد کی بابت قرآن شریف میں غلط بیان ہے یہ نما دھومی ہے۔معترض نے اس بارے میں کچھ نہیں لکھا کہ وہ بیان کیوں غلط ہے اور اس کے مقابل پر میچ کونسا بیان ہے اور اس کی صحت پر کون سے دلائل ہیں تا اس کے دلائل پر غور کی جائے اور جواب شافی دیا جائے۔اگر معترض کو فرقانی بیان پر کچھ کلام تھا تو اس کے وجوہات پیش کرنی چاہئیں تھیں۔بغیر پیش کرنے وجوہات کے یونہی نماد ٹھہرانا متلاشی حق کا کام نہیں ہے۔ہے۔تیسری غلہ تبھی معترض کے دل میں یہ پیدا ہوئی ہے کہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ ایک بادشاہ (جس کی سیر و سیاحت کا ذکر قرآن شریف میں ہے ) سیر کرنا کرنا کسی ایسے مقام تک پہنچا جہاں اُسے سورج دلدل میں چھپتا نظر آیا۔اب عیسائی صاحب مجاز سے حقیقت کی طرف رُخ کر کے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ سورج اتنا بڑا ہو کر ایک چھوٹے سے دلدل میں کیونکر چھپ گیا۔یہ ایسی بات ہے جیسے کوئی کہے کہ انجیل میں مسیح کو خدا کا بڑہ لکھا ہے یہ کیونکر ہو سکتا ہے۔برو تو وہ ہوتا ہے جس کے سر پر سینگ اور بدن پر پشم و غیرہ بھی ہوا اور چارپایوں کی طرح سرممون چلتا اور وہ چیزیں کھاتا ہو جو بڑے کھایا کرتے ہیں؟ اے صاحب! آپ نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ قرآن شریف نے واقعی طور پر سورج کے دلدل میں چھپنے کا دعوی کیا ہے۔قرآن شریف تو فقط بمنصب نقل خیال اس قد رفرماتا ہے کہ اس شخص کو اس کی نگاہ میں دلدل میں سورج چھپتا ہوا معلوم ہوا۔سو یہ تو ایک شخص کی رویت کا حال بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایسی جگہ پہنچا جس جگہ سورج