آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 426
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 426 باب دہم کیا گیا ہو یا کنارہ کرنا جائز ہو۔کیا کوئی کلام الہی دنیا میں ایسا بھی آیا ہے؟ اگر ہم غور کریں تو ہم خود اپنی ہر روزہ بول چال میں صد با مجازات و استعارات بول جاتے ہیں اور کوئی بھی ان پر اعتراض نہیں کرتا۔مثلاً کہا جاتا ہے کہ بلال بال سا باریک ہے اور ستارے نقطے سے ہیں یا چاند بادل کے اندرچھپ گیا اور سورج ابھی تک جو پہر دن چڑھا ہے نیزہ بھر اوپر آیا ہے یا ہم نے ایک رکابی پلاؤ کی کھائی یا ایک پیالہ شربت کا بی لیا۔تو ان سب باتوں سے کسی کے دل میں یہ دھڑکا شروع نہیں ہوتا کہ ہلال کیونکر بال سابا ریک ہو سکتا ہے اور ستارے کس وجہ سے بقد نقطوں کے ہو سکتے ہیں یا چاند بادل کے اندر کیونکر سما سکتا ہے اور کیا سورج نے باوجود اپنی اس تیز حرکت کے جس سے وہ ہزا ر ہا کوس ایک دن میں طے کر لیتا ہے ایک پہر میں فقط بقد رنیزہ کے اتنی مسافت طے کرے ہے اور نہ رکابی پلاؤ کی کھانے یا پیالہ شربت کا پینے سے یہ کوئی خیال کر سکتا ہے کہ رکابی اور پیالہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے کھا لیا ہوگا۔بلکہ یہ سمجھیں گے کہ جوان کے اند ر چاول اور پانی ہے وہی کھایا پیا ہوگا۔نہایت صاف بات پر اعتراض کرنا کوئی دانا مخالف بھی پسند نہیں کرتا۔انصاف پسند عیسائیوں سے ہم نے خود سنا ہے کہ ایسے ایسے اعتراض ہم میں سے وہ لوگ کرتے ہیں جو بے خبر یا سخت درجہ کے متعصب ہیں۔بھلا یہ کیا حق روی ہے؟ کہ اگر کلام الہی میں مجاز یا استعارہ کی صورت پر کچھ وارد ہو تو اس بیان کو حقیقت پر حمل کر کے مورد اعتراض بنایا جائے۔اس صورت میں کوئی الہامی کتاب بھی اعتراض سے نہیں بچ سکتی۔جہاز میں بیٹھنے والے اور اگنبوٹ پر سوار ہونے والے ہر روز یہ تماشا دیکھتے ہیں کہ سورج پانی میں سے ہی نکلتا ہے اور پانی میں ہی غروب ہوتا ہے اور صد ہا مرتبہ آپس میں جیسا دیکھتے ہیں، بولتے بھی ہیں کہ وہ نکلا اور وہ غروب ہوا۔اب ظاہر ہے کہ اس بول چال کے وقت میں علم ہیئت کے دفتر اُن کے آگے کھولنا اور نظام شمسی کا مسئلہ لے بیٹھنا گویا یہ جواب سنتا ہے کہ اے پاگل ! کیا یہ علم تجھے ہی معلوم ہے۔ہمیں معلوم نہیں۔عیسائی صاحب نے قرآن شریف پر تو اعتراض کیا مگر انجیل کے وہ مقامات جن پر تھا و حقیقتا اعتراض ہوتا ہے بھولے رہے۔مثلاً بطور نمونہ دیکھو کہ انجیل متی و مرقس میں لکھا ہے کہ میسیج کو