آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 27
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 27 یہ الزام ہے کہ آپ اپنی نبوت پر تشکی تھے باب اول ایک عیسائی عبد اللہ جیمز نے اعتراض کیا کہ آنحضور اپنی نبوت اور قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے پر تشکی تھے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ رسول اللہ نہ تھے۔اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں کہ: معترض نے پہلے اپنے دعوی کی تائید میں سورۂ بقرہ میں سے ایک آیت پیش کی ہے جس کے پورے پورے لفظ یہ ہیں۔اَلحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ (بقره ۱۳۸) اس آیت کا سیاق سباق یعنی اگلی پچھلی آیوں کے دیکھنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس جگہ نبوت اور قرآن شریف کا کوئی ذکر نہیں۔صرف اس بات کا بیان ہے کہ اب بیت المقدس کی طرف نہیں۔بلکہ بیت کعبہ کی طرف منہ پھیر کر نماز پڑھنی چاہئے۔سو اللہ جل شانہ اس آیت میں فرماتا ہے کہ یہ ہی حق بات ہے یعنی خانہ کعبہ کی طرف ہی نماز پڑ ھنا حق ہے جو ابتدا سے مقرر ہو چکا ہے اور پہلی کتابوں میں بطور پیشگوئی اس کا بیان بھی ہے سوتو (اے پڑھنے والے اس کتاب کے ) اس بارے میں شک کرنے والوں سے مت ہو پھر اس آیت کے آگے بھی اسی مضمون کے متعلق آیتیں ہیں چنانچہ فرماتا ہے : ومِن حيث خرَجْتَ فَوَلِ وَجَهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبَّكَ (البقره (۱۵۰) یعنی ہر ایک طرف سے جو تو نکلے تو خانہ کعبہ کی ہی طرف نماز پڑھ یہی تیرے رب کی طرف سے حق ہے غرض صاف ظاہر ہے کہ یہ تمام آیات خانہ کعبہ کے بارے میں ہیں نہ کسی اور تذکرہ کے متعلق اور چونکہ یہ حکم جو خانہ کعبہ کی طرف نماز پڑھنے کے لئے صادر ہوا ایک عام حکم ہے جس میں سب مسلمان داخل ہیں لہذا عموم منشاء حکم بعض وسو سے والی طبیعتوں کا وسوسہ * یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پہلی کتابوں میں اور نیز انجیل میں بھی تحویل کعبہ کے بارے میں بطور پیشگوئی اشارات ہو چکے ہیں۔دیکھو یوحنا ۴ ۲۱ تا ۲۴ یسوع نے اُس سے کہا کہ اے عورت ! میری بات کو یقین رکھ وہ گھڑی آتی ہے کہ جس میں تم نہ اس پہاڑ پر اور ندی و ظلم میں باپ کی پرستش کرو گے۔