آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 421 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 421

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 421 باب و ہم جاتے ہیں اور شناخت کئے جاتے ہیں کہ بعض اوقات آئندہ کی پوشیدہ باتیں یا کچھ چھپے اسرار انہیں بتلائے جاتے ہیں مگر یہ نہیں کہ ان کے اختیار اور ارادہ اور اقتدار سے بلکہ خدائے تعالیٰ کے ارادہ اور اختیار اور اقتدار سے یہ سب نعمتیں انہیں ملتی ہیں۔اور وہ جو اس کی مرضی پر چلتے ہیں اور اُسی کے ہو رہتے اور اسی میں کھوئے جاتے ہیں اس خیر محض کی ان سے کچھ ایسی ہی عادت ہے کہ اکثر ان کی سنتا اور اپنا گزشتہ فعل یا آئندہ کا منشاء بسا اوقات ان پر ظاہر کر دیتا ہے۔مگر بغیر اعلام الہی انہیں کچھ بھی معلوم نہیں ہوتا وہ اگر چہ خدائے تعالیٰ کے مقرب تو ہوتے ہیں مگر خدا تو نہیں ہوتے سمجھائے سمجھتے ہیں، نہلائے جانتے ہیں، دکھلائے دیکھتے ہیں بلائے بولتے ہیں اور اپنی ذات میں کچھ بھی نہیں ہوتے۔جب طاقت عظمی انہیں اپنے الہام کی تحریک سے بلاتی ہے تو وہ بولتے ہیں اور جب دکھلاتی ہے تو دیکھتے ہیں اور جب سناتی ہے تو سنتے ہیں اور جب تک خدائے تعالیٰ ان پر کوئی پوشیدہ بات ظاہر نہیں کرتا تب تک انہیں اس بات کی کچھ بھی خبر نہیں ہوتی۔تمام نبیوں کے حالات زندگی (لائف ) میں اس کی شہادت پائی جاتی ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف ہی دیکھو کہ وہ کیونکر اپنی لاعلمی کا آپ اقرار کر کے کہتے ہیں کہ اُس دن اور اس گھڑی کی بابت سواباپ کے ناتھ فرشتے جو آسمان پر ہیں، نہ بیٹا کوئی نہیں جانتا۔باب ۱۳۔آیت ۳۲ مرقس۔اور پھر وہ فرماتے ہیں کہ میں آپ سے کچھ نہیں کرنا (یعنی کچھ نہیں کر سکتا ) مگر جو میرے باپ نے سکھایا وہ باتیں کہتا ہوں۔کسی کو راستبازوں کے مرتبہ تک پہنچانا میرے اختیار میں نہیں۔مجھے کیوں نیک کہتا ہے نیک کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا مرقس۔(مرقس باب ۱۰ آیت ۱۸) غرض کسی نبی نے با اقتدار یا عالم الغیب ہونے کا دعوی نہیں کیا۔دیکھو اس عاجز بندہ کی طرف جس کو مسیح کر کے پکارا جاتا ہے اور جسے نادان مخلوق پرستوں نے خدا سمجھ رکھا ہے کہ کیسے اس نے ہر مقام میں اپنے قول اور فعل سے ظاہر کر دیا کہ میں ایک ضعیف اور کمزور اور نا تواں بندہ ہوں اور مجھ میں ذاتی طور پر کوئی بھی خوبی نہیں اور آخری اقرار جس پر ان کا خاتمہ ہوا کیسا پیارے لفظوں میں ہے۔چنانچہ انجیل میں یوں لکھا ہے کہ وہ یعنی مسیح ( اپنی گرفتاری کی خبر پا کر ) گھبرانے