آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 422
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 422 باب دہم اور بہت دلگیر ہونے لگا اور ان سے (یعنی اپنے حواریوں سے ) کہا کہ میری جان کا غم موت کا سا ہے اور وہ تھوڑا آگے جا کر زمین پر گر پڑا (یعنی سجدہ کیا ) اور دعا مانگی کہ اگر ہو سکے تو یہ گھڑی مجھے سے ٹل جائے اور کہا کہ اے ابا ! اے باپ سب کچھ تجھ سے ہو سکتا ہے۔اس پیالہ کو مجھ سے نال دے۔یعنی تو قادر مطلق ہے اور میں ضعیف اور عاجز بندہ ہوں۔تیرے ٹالنے سے یہ بلائل سکتی ہے اور آخر ایلی ایلی لما سبقتنی کہہ کر جان دی۔جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے میرے خدا اے میرے خدا!! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔“ اب دیکھئے کہ اگر چہ دعا تو قبول نہ ہوئی کیونکہ تقدیر مبرم تھی۔ایک مسکین مخلوق کی خالق کے قطعی ارادہ کے آگے کیا پیش جاتی تھی۔مگر حضرت مسیح نے اپنی عاجزی اور بندگی کے اقرار کو نہایت تک پہنچا دیا۔اس امید سے کہ شاید قبول ہو جائے۔اگر انہیں پہلے سے علم ہوتا کہ دعارڈ کی جائے گی ہر گز قبول نہیں ہوگی تو وہ ساری رات برابر فجر تک اپنے بچاؤ کے لئے کیوں دعا کرتے رہتے اور کیوں اپنے تئیں اور اپنے حواریوں کو بھی تقید سے اس لا حاصل مشقت میں ڈالتے۔سو بقول معترض صاحب ان کے دل میں یہی تھا کہ انجام خدا کو معلوم ہے مجھے معلوم نہیں۔پھر ایسا ہی حضرت مسیح کی بعض پیشگوئیوں کا صحیح نہ نکلنا دراصل اسی وجہ سے تھا کہ باعث عدم علم بر اسرار تحقیہ اجتہادی طور پر تشریح کرنے میں اُن سے غلطی ہو جاتی تھی جیسا کہ آپ نے فرمایا تھا کہ جب نئی خلقت میں ابن آدم اپنے جلال کے تخت پر بیٹھے گا تم بھی (اے میرے بارہ حواریو) بارہ تختوں پر بیٹھو گے۔دیکھو باب ۲۰۔آیت ۲۸ متی۔لیکن اسی انجیل سے ظاہر ہے کہ یہودا اسکر یوطی اس تخت سے بے نصیب رہ گیا۔اس کے کانوں نے تخت نشینی کی خبر سن لی مگر تخت پر بیٹھنا اُسے نصیب نہ ہوا اب راستی اور سچائی سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت مسیح کو اس شخص کے مرید اور بد عاقبت ہونے کا پہلے سے علم ہوتا تو کیوں اس کو تخت نشینی کی جھوٹی خوش خبری سناتے۔ایسا ہی ایک مرتبہ آپ ایک انجیر کا درخت دور سے دیکھ کر انجیر کھانے کی نیت سے اس کی طرف گئے مگر جا کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس پر ایک بھی انجیر نہیں تو آپ بہت ناراض ہوئے اور غصہ کی حالت میں اس انجیر کو بد دعا دی جس کا کوئی